
ایک شخص کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں بیوہ ،چار بیٹیاں ،دو بیٹے ہیں، والدین کا انتقال پہلے ہو چکا ہے ۔
پھر اس کے بعد بیوہ کا انتقال ہوا ،اس کے ورثا میں بھی دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، بیوی کے والدین بھی پہلے انتقال کر چکے ہیں۔
پھر ایک بیٹی کا انتقال ہوا ،اس کے ورثا میں شوہر ،تین بیٹیاں ،دو بیٹے، تین بہنیں، اور دو بھائی ہیں۔
اب ان کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟ اور بیٹی کے شوہر اور بچوں کا کیا حصہ بنے گا؟
صورت مسئولہ میں سب سے پہلے مرحوم والدین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم پر قرضہ ہو اُسے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو،تو اسے ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 224حصوں میں تقسیم کر کے56 حصے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو ،28حصےمرحوم والدین کی ہر ایک زندہ بیٹی کو،7 حصے مرحوم بیٹی کے شوہر کو،6 حصے مرحوم بیٹی کے ہر ایک بیٹۓ کو،اور 3حصے مرحوم بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت ِ تقسیم یہ ہے :
مرحوم والدین : 224/8
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
| 56 | 56 | فوت شدہ | 28 | 28 | 28 |
مرحوم بیٹی :28/4.......مف :1
| شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 3 | ||||
| 7 | 6 | 6 | 3 | 3 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 25 فیصد، مرحوم والدین کی ہر ایک زندہ بیٹی کو 12.5 فیصد،مرحوم بیٹی کے شوہر کو 3.125 فیصد، مرحوم بیٹی کے ہر ایک بیٹۓ کو 2.67 فیصد، اور مرحوم بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو 1.33فیصد حصہ ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100959
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن