بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم ترکہ بطریق مناسخہ (دو بطن)


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں بیوہ ،چار بیٹیاں ،دو بیٹے ہیں، والدین کا انتقال پہلے ہو چکا ہے ۔

پھر اس کے بعد بیوہ کا انتقال ہوا ،اس کے ورثا میں بھی دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، بیوی کے والدین بھی پہلے انتقال کر چکے ہیں۔

پھر ایک بیٹی کا انتقال ہوا ،اس کے ورثا میں شوہر ،تین بیٹیاں ،دو بیٹے، تین بہنیں، اور دو بھائی ہیں۔

اب  ان کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟ اور بیٹی کے شوہر اور بچوں کا کیا  حصہ بنے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں سب سے پہلے مرحوم والدین کے   حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر  مرحوم  پر  قرضہ ہو اُسے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو،تو  اسے ایک تہائی ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ   وغیر منقولہ کو  224حصوں میں تقسیم کر کے56   حصے مرحوم   والدین کے  ہر ایک بیٹے کو  ،28حصےمرحوم والدین کی ہر ایک  زندہ بیٹی کو،7 حصے مرحوم بیٹی کے شوہر کو،6  حصے مرحوم بیٹی کے ہر ایک بیٹۓ کو،اور 3حصے   مرحوم  بیٹی کی  ہر ایک بیٹی  کو  ملیں گے۔

صورت ِ تقسیم یہ ہے :

مرحوم والدین : 224/8

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
221111
5656فوت شدہ282828

مرحوم بیٹی :28/4.......مف :1

شوہربیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
13
766333

یعنی فیصد کے اعتبار سے  مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 25 فیصد،   مرحوم والدین کی ہر ایک زندہ بیٹی کو 12.5 فیصد،مرحوم بیٹی کے شوہر کو  3.125 فیصد، مرحوم بیٹی کے ہر ایک بیٹۓ کو  2.67 فیصد، اور مرحوم بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو 1.33فیصد حصہ ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100959

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں