بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیع تام ہو جانے کے بعد بائع کا انتقال ہو جانا


سوال

زید نے ایک مکان مع ملحقہ چار دوکانوں کے خالد کو بیچا، خالد نے کچھ رقم دی اور بقیہ رقم  کے لیے دوسال کا وقت رکھا، جس پر زید نے خالد کو مکان کا قبضہ دےدیا، اور ملحقہ دوکانوں کے دوکانداروں کو زید نے کہا کہ میں نے مکان مع دوکانیں خالد کو بیچ دیا ہے، لہذا آئندہ سے آپ دوکانوں کا کرایہ خالد کو دیا کرو، اس کے بعد اچانک زید کا انتقال ہو  گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ شرعاً زید اور خالد کے درمیان ہونے والی خرید و فروخت مکمل ہو چکی ہے یا نہیں ؟اب یہ مکان مع دوکانیں خالد کی شمار ہوں گی اور خالد پر ان کی بقیہ رقم کی ادائیگی لازم  ہے؟یا اس میں زید کے ورثاء کے لئے وراثت جاری ہوگی ؟

جواب

واضح رہے کہ سودا ہو جانے کے بعد خریدی گئی چیز / جائیداد خریدار کی ملکیت میں آ جاتی ہے، جبکہ طے شدہ قیمت پر فروخت کنندہ کا استحقاق ثابت ہو جاتا ہے، جس کی ادائیگی خریدار پر لازم ہوتی ہے، قیمت کی ادائیگی سے قبل خریدار کی وفات ہو جانے کی وجہ سے  بیع / سودا ختم نہیں ہوتا، پس صورت مسئولہ میں زید چوں کہ مذکورہ جائیداد دو سال کی ادھار ی پر خالد کو فروخت کر چکا ہے، لہذا مذکورہ مکان مع دوکانیں خالد کی ملکیت شمار ہوں گی، مذکورہ جائیداد فروخت کنندہ زید کے ترکہ  میں شامل نہیں ہوگی، البتہ مذکورہ جائیداد کی طے شدہ قیمت ادا کرنا خالد پر لازم ہوگا، اور خالد کے ذمہ واجب الاداء رقم زید کے  ترکہ کا حصہ ہوگی، اور اس کے تمام شرعی وارثوں میں وراثت کے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے  :

"وأما الذي يرجع إلى نفس العقد فهو أن يكون القبول موافقا للإيجاب، بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع وبما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه؛ لا ينعقد من غير إيجاب مبتدإ موافق بيان هذه الجملة إذا أوجب البيع في العبد فقبل في الجارية، لا ينعقد، وكذا إذا أوجب في العبدين فقبل في أحدهما بأن قال: بعت منك هذين العبدين بألف درهم فقال المشتري: قبلت في هذا العبد وأشار إلى واحد معين لا ينعقد؛"

 (كتاب البيوع،فصل في الشرط الذي يرجع إلى نفس العقد،ج:5،ص: 136، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضا:

"(أما) الحكم الأصلي، فالكلام فيه في موضعين: في بيان أصل الحكم، وفي بيان صفته.(أما) الأول: فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."

 (كتاب البيوع، فصل في حكم البيع، ج: 5، ص: 233، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144712100871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں