بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی پسند نہ ہونے کی وجہ سے اگر نباہ ممکن نہ ہو تو کیا کیا جائے؟


سوال

  میری شادی کو چار سال ہونے والے ہیں،  میں چار سال پہلے  سعودی عرب  سے گھر گیا تھا،اس وقت میری شادی ہوئی، لیکن  مُجھے لڑکی پسند نہیں تھی، اور  میں گھر والوں کو وجہ بتا نہیں پایا،  شادی کرکے میں سعودی عرب  میں واپس آگیا،   کبھی لڑکی سے بات ہی نہیں کر پاتا،  بہت ٹینشن میں زندگی گزر رہی ہے،  کوئی شرعی  حل بتادیں! کیوں کہ  میں اس  لڑکی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔

جواب

واضح رہے کہ ازدواجی رشتہ چونکہ دائمی رشتہ ہوتا ہے، اس لیے  شریعتِ مطہرہ میں نکاح سے پہلے جائز حدود میں رہتے ہوئے  لڑکے اور لڑکی میں مناسبت کے لیے بہت سے اہم امور کا لحاظ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے مثلاً کفو (برابری)، گھر کی معتمد خواتین کے ذریعے یا خود ایک نظر دیکھ کر لڑکی کا حلیہ معلوم کرنا وغیرہ۔ جتنی زیادہ باہمی مناسبت ہوگی، اتنا ہی نکاح کے بعد اچھی زندگی کی امید ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جس لڑکی سے آپ کی شادی ہوئی ہے وہ اگر آپ کو پسند نہیں تھی تو نکاح سے پہلے ہی آپ کو معذرت کر لینی چاہیے تھی،  جب نکاح ہوگیا تو شریعت کا مزاج اسے حتی الامکان نبھانے کا ہے، اس لیے ہر ممکن کوشش کریں کہ یہ رشتہ ٹوٹنے سے بچ جائے، اور نباہ کی کوئی صورت بن جائے۔ 

لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود  ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہ بن پائے اور آپ  بیوی کے حقوق کی ادائیگی نہ کرپا رہے ہوں تو  شریعت نے شوہر کو یہ اختیار دیا ہے کہ بیوی کو لٹکا کر رکھنے کے بجائے اُسے ایک طلاق دے دے، پھر اگر عدت کے اندر اپنے فیصلے پر پشیمان ہو جائے تو رجوع کر لے، ورنہ اسی حالت پر چھوڑ دے، عدت گزرنے کے بعد ان کا نکاح ختم ہوجائے گا۔ اور دونوں دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوں گے۔ 

بہرحال آپ   کو چاہیے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے گھر اور خاندان کے بڑوں سے مشورہ بھی کرلے اور انہیں اعتماد میں لے کر فیصلہ کرے؛ تاکہ بعد میں پشیمانی نہ ہو۔

  قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

" { فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا}" [النساء: 34]

ترجمہ : پھر اگر وہ تمھاری فرماں برداری کریں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت بلند، بہت بڑا ہے۔

"﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾"[النساء: 19]

ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی  کے  ساتھ گزران کرو،  اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو  ممکن ہے  کہ تم ایک شے  کو ناپسند کرو  اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر  کوئی  بڑی منفعت رکھ دے۔(ازبیان القرآن)

  حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لايفرك مؤمن مؤمنةً إن كره منها خلقاً رضي منها آخر . رواه مسلم".

(مشکاۃ المصابیح، 2/280،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے،  اگر  اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی  خصلت وعادت ناپسندیدہ ہوگی  تو  کوئی دوسری خصلت وعادت پسندیدہ بھی ہوگی۔

(مظاہر حق، 3/354، ط: دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے :

"  وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ وإذا وجدت الحاجة المذكورة أبيح وعليها يحمل ما وقع منه - صلى الله عليه وسلم - ومن أصحابه وغيرهم من الأئمة صونا لهم عن العبث والإيذاء بلا سبب، فقوله في البحر إن الحق إباحته لغير حاجة طلبا للخلاص منها، إن أراد بالخلاص منها الخلاص بلا سبب كما هو المتبادر منه فهو ممنوع لمخالفته لقولهم إن إباحته للحاجة إلى الخلاص، فلم يبيحوه إلا عند الحاجة إليه لا عند مجرد إرادة الخلاص وإن أراد الخلاص عند الحاجة إليه فهو المطلوب، وقوله في البحر أيضا إن ما صححه في الفتح اختيار للقول الضعيف وليس المذهب عن علمائنا فيه نظر لأن الضعيف هو عدم إباحته إلا لكبر أو ريبة. "

(ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں