
ہمارے علاقے میں یہ رسم ہے کہ بندہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گھر کے دیگر افراد کےسامنے (ماں،باپ وغیرہ وغیرہ)بات نہیں کرتا،اگر وہ ایساکرے تو گھر کے دیگر افراد اس کو برا مانتے ہیں،اوراس بندے کی طرف بے شرم و بےحیاء ہونے کی نسبت کرتے ہیں ،بچہ اگر رو بھی رہاہو،گر بھی رہا ہو،اگر گھر کے دیگر افراد دیکھ رہے ہوں، تو یہ باپ اپنے بچے کو ہاتھ نہیں لگا سکتا، خاوند گھر میں بیٹھا ہوتا ہے،بیوی اگر بیمار ہوتو گھر کی بڑی عورتیں اس کو ہسپتال لے کرجاتی ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے علاقے کا عرف یہ ہے اور عرف شرعاًمعتبر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہےکہ:،کیا ایسے امور کا ارتکاب کرنا شرعاًجائز ہے؟
صورت مسئولہ میں گھر والوں کی موجودگی میں بیوی بچوں سے بات نہ کرنا،روتے ہوئے بچے کو نہ اٹھانا،یا بیوی کی تیمارداری نہ کرنا خلاف شرع طریقہ ہے،جس کو ترک کرنا ضروری ہے، نیز بیوی سے بات کرنے،یا بیمارپرسی کرنے یا اپنی اولاد سے شفقت سے پیش آنے کو بے شرمی وبے حیائی سمجھناازروئے شرع غلط ہے ؛کیوں کہ صحیح بخاری میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها قالت:جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: تقبلون الصبيان؟ فما نقبلهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة)."
(كتاب الأدب، باب: رحمة الولد وتقبيله ومعانقته، ج:5، ص: 2235، رقم الحدیث:5652، ط:دار ابن كثير دار اليمامة)
ترجمہ:”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،اورکہاکہ آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں،ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے ،نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ: اگراللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے،تو میں کیا کرسکتاہوں۔ “
اسی طرح بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم قرآن وحدیث میں مذکور ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
" وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ."(النساء:19)
"ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔"(ازبیان القرآن)
وفیہ ایضاً:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ (البقرة:228)
ترجمہ: اور عورتوں کے بھی حقوق ہیں جو کہ مثل ان ہی کے حقوق کے ہیں جو ان عورتوں پر ہیں۔ (بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي."
(باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:281، ط: قدیمی)
ترجمہ:رسول کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں(مظاہر حق،ج:3،ص: 365، ط؛ دارالاشاعت)
مشکاة المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم . رواه الترمذي."
(باب عشرة النساء، ج:2، ص:282، ط: قدیمي)
ترجمہ:"رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔"
لہذا سوال میں مذکور طرزِ عمل نہ صرف شریعت کے مزاج کے خلاف ہے،بلکہ بیوی بچوں کے حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، لہٰذا اس رسم کو ترک کرنا لازم ہے، اور خلاف شرع طرز عمل کے مطابق رویہ اختیار کرنا مرد کے لیے شرعاًشرعاً درست نہیں۔
جہاں تک عرف کا تعلق ہے تو اصول یہ ہے کہ عرف وہی معتبر ہوتا ہے جہاں نص نہ ہو یا نص ہولیکن نص کے خلاف نہ ہو، چو ں کہ یہ رسم اور عرف نصوص، شریعت کے احکام اور اس کے اخلاقی مزاج کے برخلاف ہے، اس لیے اس عرف کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"ولا معنى لاعتبار العرف؛ لأن العرف يسقط اعتباره عند وجود النص بخلافه."
(كتاب المزارعة، باب المزارعة على قول من يجيزها في النصف والثلث، ج:23، ص: 18، ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)
الأشباه والنظائر میں ہے:
"وإنما العرف غير معتبر في المنصوص عليه،قال في الظهيرية من الصلاة: وكان محمد بن الفضل يقول السرة إلى موضع نبات الشعر من العانة ليست بعورة؛ لتعامل العمال في الإبداء عن ذلك الموضع عند الاتزار،وفي النزع عند العادة الظاهرة نوع حرج.وهذا ضعيف وبعيد؛ لأن التعامل بخلاف النص لا يعتبر."
(القاعدة السادسة: العادة محكمة,المبحث الأول: بماذا تثبت العادة؟, ص80, ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
شرح عقود رسم المفتي میں ہے:
"العرف إذا خالف الشريعة فهذا كله صريح فيما قلنا من العمل بالعرف ما لم يخالف الشريعة كالمكس والربا ونحو ذلك."
(العرف وحجیته وشرط اعتباره، العرف إذا خالف الشريعة، ص:80، ط:البشری)
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:
"المعاشرة بالمعروف من كف الأذى وإيفاء الحقوق وحسن المعاملة: وهو أمر مندوب إليه، لقوله تعالى: "وعاشروهن بالمعروف "ولقوله صلّى الله عليه وسلم: "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي" وقوله:"استوصوا بالنساء خيراً"والمرأة أيضاً مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان."
(البَاب الأول: الزّواج وآثاره، ج:9، ص:6598 -6599، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم. ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالبا إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالبا ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟!"
(القسم السادس: الأحوال الشخصية، الباب الثالث: حقوق الأولاد، المطلب الثاني :شروط وجوب النفقة، نفقات العلاج، ج:10، ص:7380، ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101664
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن