بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکے بیٹھنے کا حکم


سوال

ایک شخص کی شادی کو گیارہ سال گزر گئے اولاد نہیں ہوئی، میاں بیوی کی ناراضگی کے باوجود یہ سلسلہ چلتا رہا، پھر بیوی مزاج پرسی کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ شوہر کی رضامندی سے دو مہینے کے لیے میکے چلی گئی، تین دن بعد بیوی نے فون کیا کہ:  میں نہیں آنا چاہتی، آپ اپنے لیے دوسری شادی کا بندوبست کرلیں، چھ ماہ تک شوہر نے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی، لیکن ان کا انکار ہی رہا، اس کے بعد شوہر نے مجبوراً دوسری  شادی کرلی، پھر  لڑکی کا فون آیا کہ میرا کیا بنے گا؟ تو شوہر نے اس کو کہا کہ یہ آپ کا گھر ہے آ پ آسکتی ہیں، جو حق تمہارا ہے وہ دوسری کا ہے، اور جو دوسری بیوی کا ہے وہ تمہارا ہے، لیکن وہ پھر بھی آنے کے لیے تیار نہیں، اب لڑکی اور ان کے گھر والے اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں،لیکن شوہر  کسی صورت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

باقی نکاح نامہ میں حقِ مہر کے خانے میں مکان کا تہائی حصہ درج ہے، اور خاص شرائط کے خانے میں تین تولہ سونا لکھا گیا ہے، لڑکی والوں کا کہنا ہے کہ ہم نے ایک مفتی صاحب سے معلوم کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ لڑکے کے ذمہ ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز دینا ضروری ہے، لیکن لڑکے والے کوئی ایک چیز دینے پر بھی آمادہ نہیں، ان کا کہنا ہے کہ چوں کہ لڑکے نے اسے چھوڑا نہیں، اس لیے اس کا حق نہیں بنتا، لہٰذا شرعاً اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

وضاحت: 

نکاح نامہ میں جو خاص شرائط کے تحت  تین تولہ سونا لکھا ہوا ہے، یہ مہر سے الگ تھا، ہم نے اپنے طور پر بنا کر  شادی کے وقت دیا تھا، کوئی خاص شرائط وغیرہ نہیں تھے، اور حقِ مہر صرف مکان کا تیسرا حصہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالی نےزوجین (میاں بیوی) کے ایک دوسرے پر حقوق رکھے ہیں، خوشگوار زندگی کے لیے مرد وعورت دونوں پر ان حقوق کی ادائیگی لازم ہے، عورت کے ذمہ ہے  کہ وہ  اپنے خاوند کی اطاعت  کرے،اور ہر حال میں  خاوند کی  خوشنودی کو  مد نظر  رکھے، بلاوجہ اپنے خاوند  کی نافرمانی  کرکے اس کا گھر چھوڑنے  سے اجتناب کرے، کیوں کہ احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورتوں کے بارے میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں،  حدیث شریف میں ہےکہ: جب عورت اپنے خاوند کا بچھونا چھوڑ کر سوئے ،تو اس کے راضی ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، حتی کہ نفلی روزہ بھی شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتی،اسی طرح بیوی کے بھی شوہر پر حقوق ہیں کہ شوہر  اپنی  بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ، نرمی سے پیش آئے ، اس کے حقوق ، نان ونفقہ ادا کرے، بلاوجہ  اس کو نہ  مارے، اس کے حقوق میں کوتا ہی نہ کرے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے اور شوہر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے تو بیوی کے لیے اپنے میکے بیٹھنا جائز نہیں،   جس بنیاد پر اختلاف ہے  اسے ختم کرنے کی کوشش  کی جائے، دونوں خاندان کے بڑے مل بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کریں، باوجود کوشش کے نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو علیحدگی کا راستہ اختیار کیا جائے، شوہر طلاق دے دے، یا بیوی شوہر سے حقِ مہر کے بدلے خلع لے لے، تاہم حتی الامکان کوشش کی جائے کہ مسائل حل ہوجائیں اور گھر بس جائے۔

اگر شوہر بیوی کو طلاق دے گا تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ بیوی کو مکمل حق  مہر ( مکان کا تیسرا حصہ)ادا کرے، اور اگر وہ مہر کے بدلے میں خلع دیتا ہے تو شوہر کے ذمہ مہر ادا کرنا لازم نہ ہوگا۔ باقی جو تین تولہ سونا، حسبِ وضاحتِ شوہر، بیوی کو اپنے طور پر حقِ مہر سے ہٹ کر دیا گیا تھا، اس کا مطالبہ اب شوہر نہیں کر سکتا، بلکہ وہ لڑکی کی ہی ملکیت شمار ہوگا۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(كتاب النكاح، باب: إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، 5/ 1993، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بچھونے کی طرف  بلا دے، اور وہ آنے سے انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“

(مترجم صحیح البخاری، ص: 116، ط: ادارہ اسلامیات)

وفيه أيضا:

عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، لعنتها الملائكة حتى ترجع ".

(كتاب النكاح، باب: إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، 5/ 1994، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ  (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے:  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے خاوند کا بچھونا چھوڑ کر سوئے ،تو اس کے راضی ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔“

(مترجم صحیح البخاری، ص: 116، ط: ادارہ اسلامیات)

سنن ترمذی میں ہے: 

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن ‌تسجد ‌لزوجها."

(أبواب الرضاع، ‌‌باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، 3/ 457، ط: مصطفى البابي الحلبي)

سنن ابی داود میں ہے: 

"عن حكيم بن معاوية القشيري عن أبيه، قال: قلت: يا رسول الله، ما حق زوجة أحدنا عليه؟ قال: "أن ‌تطعمها ‌إذا ‌طعمت، وتكسوها إذا اكتسيت - أو اكتسبت - ولا تضرب الوجه، ولا تقبح، ولا تهجر إلا في البيت."

(كتاب النكاح، باب في حق المرأة على زوجها، 3/ 476، ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:  ”حکیم بن معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیوی کا ہم لوگوں پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کھانا کھاؤ تو اس کو کھلاؤ ،اور جب لباس پہنو تو اس کو بھی لباس پہناؤ، اور اس کے چہرہ پر نہ مارو، اور اسے بُرا بھلا مت کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے علیحدہ نہ ہو۔“

(مترجم سنن ابو داود، کتاب النکاح، شوہر پر بیوی کا کیا حق ہے؟، 2 / 173، مکتبۃ العلم، اردو بازار  لاہور)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"وليس للمرأة التي لها زوج أن ‌تصوم تطوعا إلا بإذن زوجها، لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن ‌تصوم صوم تطوع إلا بإذن زوجها."

(كتاب الصوم، فصل بيان ما يسن وما يستحب للصائم،  2/ 107، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية، إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع، وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان."

(كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، 1/ 488، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100790

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں