
میری شادی ہوئی ،اس کا علم لڑکی کے والدین کو تھااور میرے والدین کو نہیں تھا،ہم ساتھ زندگی گزار رہے تھے،بعد ازاں میری اہلیہ کی مجھ سے ناراضگی ہوئی کسی بات پر،تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے طلاق نامہ بنوایا ہے اور اب ہماری طلاق ہوچکی ہے،حالاں کہ میں نے نہ زبانی طلاق دی ہے اور نہ تحریری طلاق دی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کوکہا کہ طلاق نامہ لکھے،نہ ہی بیوی کو اور نہ ہی کسی اور کو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاایسی صورت میں جب میں نے طلاق نامہ نہیں بنوایا اور نہ زبانی وتحریری کسی قسم کی طلاق دی ہوتو ایسی صورت میں طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟
نوٹ: میری اہلیہ نے اس واقعہ کے بعد تھانہ میں اقرار نامہ بھی لکھوایا تھا کہ یہ میرا شوہر ہے،ہم ساتھ رہیں گے۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل نے نہ بیوی کو زبانی طلاق دی ہےاور نہ تحریری اور نہ ہی سائل نے بیوی کو طلاق نامہ بنوانے کاکہاتھا،نہ اسے طلاق دینے کا اختیار سپرد کیا تھا بلکہ سائل کی بیوی نے خود سے طلاق نامہ بنوایاتو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،میاں بیوی کا آپس میں نکاح بدستور قائم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله شرطه الملك) أي شرط لزومه فإن التعليق في غير الملك والمضاف إليه صحيح موقوف على إجازة الزوج حتى لو قال أجنبي لزوجة إنسان إن دخلت الدار فأنت طالق توقف على الإجازة، فإن أجازه لزم التعليق فتطلق بالدخول بعد الإجازة لا قبلها وكذا الطلاق المنجز من الأجنبي موقوف على إجازة الزوج، فإذا أجازه وقع مقتصرا على وقت الإجازة بخلاف البيع فإنه بالإجازة يستند إلى وقت البيع والضابط فيه أن ما صح تعليقه بالشرط يقتصر وما لا يصح يستند بحر."
(کتاب الطلاق،باب التعلیق،ج:3،ص: 344،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100073
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن