بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

’’اگر میں نے ایک مہینے میں دوسری شادی نہیں کی تو آپ مجھ پر بہن کی طرح ہو‘‘ کا حکم


سوال

 کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ" اگر میں نے ایک مہینے میں دوسری شادی  نہیں کی تو آپ مجھ پر  بہن کی طرح ہو" اب اس شخص کے لئے اس مہینے میں دوسری شادی  کرنا مشکل ہے، وہ باہر ملک جا رہا ہے، اب اس جملے کا شرعی کیا حکم ہے؟جبکہ اس شخص کی نیت اس جملے سے طلا ق کی تھی،البتہ عدد کی کوئی قید نہیں لگائی تھی،بس مطلق طلاق کی نیت کی تھی۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ نے جب مذکورہ شخص نے اپنی بیوی سے یہ جملہ کہا کہ" اگر میں نے ایک مہینے میں دوسری شادی  نہیں کی تو آپ مجھ پر  بہن کی طرح ہو" اور اس کی اس جملے سے نیت بھی طلاق کی تھی،تو اگر اس نے ایک مہینے میں دوسری شادی نہیں کی تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور بیوی اس پر حرام ہو جائے گی، اس کے بعد رجوع کی گنجائش تو نہیں ہو گی ،تاہم  اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،البتہ اس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاق کااختیار ہو گا۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية.

(قوله: لأنه كناية) أي من كنايات الظهار والطلاق. قال في البحر: وإذا نوى به الطلاق كان بائنا كلفظ الحرام، وإن نوى الإيلاء فهو إيلاء عند أبي يوسف، وظهار عند محمد. والصحيح أنه ظهار عند الكل لأنه تحريم مؤكد بالتشبيه. اهـ. ونظر فيه في الفتح بأنه إنما يتجه في " أنت علي حرام كأمي "، والكلام في مجرد أنت كأمي اهـ أي بدون لفظ " حرام ". قلت: وقد يجاب بأن الحرمة مرادة وإن لم تذكر صريحا. هذا، وقال الخير الرملي: وكذا لو نوى الحرمة المجردة ينبغي أن يكون ظهارا، وينبغي أن لا يصدق قضاء في إرادة البر إذا كان في حال المشاجرة وذكر الطلاق. اهـ."

(باب الظهار،ج:3، ص:470، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وينكح ‌مبانته ‌بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب ."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:409، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں