بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو منانا


سوال

میری بیوی مجھ سے 10 دن سے ناراض ہے اور بولتی ہےکہ میرا دل اس وقت تمہارے لیے صاف نہیں، اس لیے مجھ سے دور رہو ، مجھے میرے میکے چھوڑ آؤ، میں تم سے نامعلوم وقت تک کے لیے دور رہنا چاہتی ہوں، جب دل صاف ہو جاۓ گا خود ہی تمھارے پاس آ جاؤں گی۔ وہ ٹک ٹاک پر فضولیات دیکھتی ہےاور بولتی ہےکہ اللہ پاک نے سب کچھ مرد کے لیے ہی بنایا ہے،مرد جو چاہے کرتا پھرے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں؟ روزانہ منانے کی کوشش کرتا ہوں، وہ پتھر بن جاتی ہے، مجھے غصّہ دلاتی ہے،بولتی ہےآپ نے بھی میرے ساتھ سارا وقت ایسے ہی گزارا ہے،اب میں بھی ایسے ہی کروں گی۔ میری بیگم میرے ماموں کی بیٹی ہےاور میری پسند ہےاور شادی اور منگنی اس کے دادا نے اور میری دادی نے کی ہےجو کہ دونوں بہن بھائی تھے،  میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں، لیکن سخت مزاج ہوں،  زبان بھی اکثر کرخت ہو جاتی ہے۔ مجھے کوئی  شرعی حل بتائیں کہ میں کیسے اس سب کو درست کروں ؟

جواب

 سب سے پہلے اپنے غصے پر قابو پائیں، نرم لہجہ اپنائیں، روزانہ استغفار کریں اور اپنے رشتے کی بھلائی کے لیے دعا مانگیں،  اگر وہ کچھ دن اپنے میکے رہنا چاہتی ہیں تو عزت سے اجازت دیں، کیوں کہ فاصلہ بعض اوقات دلوں کو قریب کرتا ہے،آپس میں  الزام تراشی سے گریز کریں،اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کریں، تاکہ وہ آپ کے اخلاق سے متاثر ہو، کچھ دن بعد اگر بات نہ بنے تو  کسی نیک بزرگ یا عالم کو ثالث بنائیں،  آئندہ جب بات کریں تو بحث نہیں، محبت، نرمی اور معافی سے آغاز کریں، نرمی سے سمجھائیں کہ شوہر اور بیوی دونوں اللہ کے حضور جواب دہ ہیں،مزید یہ   کہ احادیث مبارکہ میں جو عورت شوہر کے نافرمانی کرے ایسی عورت کے بارے میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾کا ہر فرض نماز کے بعد 11بار ورد کرکے صدقِ دل سے دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے دلوں کو جوڑ دیں گے۔         حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح»".

(مشکاۃ المصابیح، 2/280،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔ (مظاہر حق، 3/358، ط؛  دارالاشاعت)

         ایک اور حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي".

(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔(مظاہر حق، 3/366، ط؛  دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101982

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں