
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران کہا کہ"میرے گھر سے نکل جا"، اور یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے ہوں، تو شرعاً کیا حکم ہو گا؟جب کہ اس نے اس سے پہلے اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہیں دی تھی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے طلاق کی نیت سے اگر یہ الفاظ کہے ہوں کہ "میرے گھر سے نکل جا"تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی، نکاح ٹوٹ جائے گا،اور بیوی شوہر پر حرام ہو جائے گی،جس کے بعد شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا تو جائز نہیں ہو گا، البتہ اگر مذکورہ دونوں افراد دوبارہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہیں تو شرعی گواہوں کے سامنے نیا مہر مقرر کر کےاور باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدید نکاح کرنے کی اجازت ہوگی، اور تجدید نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کااختیار ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية...نحو اخرجي واذهبي وقومي)."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضاً حتى لايحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولايجري اللعان بينهما ولايجري التوارث ولايحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية".
( فصل فی حکم الطلاق البائن ،ج:3، ص:187، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102006
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن