
میری بیٹی کو اس کے شوہر ے 9مارچ کو زبانی طلاق دی، لڑکے نے پہلے اپنی والدہ کے سامنے میری بیٹی کو تین مرتبہ کہا کہ "طلاق ہے"پھر اپنے بھائی، بھابھی، بہنوئی، خالہ اور خالہ کےبیٹے کے سامنے دوبارہ طلاق دی، اور تین مرتبہ یہ کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"، تو ان الفاظ کی وجہ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور شرعاً اب کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے داماد نے اگر واقعۃ ً اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے کہ"طلاق ہے"تو اسی وقت سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، نکاح ختم ہو گیا تھا، اور سائل کی بیٹی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی تھی، لہذا سائل کے داماد کے لیے اب اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا، پس اگر 9 مارچ کے بعد سائل کی بیٹی کی عدت مکمل تین ماہواریاں گزر چکی ہیں تو وہ کسی دوسرے سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، البتہ اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک عدت مکمل کرنی ہو گی۔
حدیث مبارک میں ہے:
"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."
(صحيح البخاری ، كتاب الطلاق ، باب من أجاز طلاق الثلاث ، ج : 2 ، ص : 300 ، ط : رحمانية)
ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى...وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:232، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101112
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن