
مجھے نکاح و طلاق کے بارے میں فتویٰ لینا ہے، میرے شوہر نے ایک دن کہا کہ ”میں نے تمہیں پہلے طلاق نہیں دی مگر اب دوں گا“۔ کچھ دن بعد جب میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ نے وہ بات کیوں کہی تھی؟“ تو مجھے ایسا لگا کہ انہوں نے کہا ”ہاں، طلاق ختم“۔ مگر اب وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے یہ الفاظ نہیں کہے“۔ براہ کرم بتائیں کہ اس صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
نوٹ: شوہر انکار کر رہا ہے، کوئی گواہ یا تحریری ثبوت نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ شوہر نے آپ کے پوچھنے پر ”ہاں، طلاق ختم“ کے الفاظ کہے تھے اور شوہر بھی ان الفاظ کے منکر ہیں تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
الاشباہ والنظائر میں ہے:
"ومنها: شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه؛ طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه. وإن قال الزوج: عزمت على أنه ثلاث يتركها، وإن أخبره عدول حضروا ذلك المجلس بأنها واحدة وصدقهم أخذ بقولهم إن كانوا عدولا، وعن الإمام الثاني حلف بطلاقها ولا يدري أثلاث أم أقل يتحرى وإن استويا عمل بأشد ذلك عليه كذا في البزازية."
(الفن الأول: القواعد الكلية، قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل، ص52، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101033
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن