بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی وفات کے بعد جہیز کی واپسی کا مطالبہ کرنا


سوال

میری اہلیہ کی وفات کو تقریبا تین ماہ گزر چکے ہیں ،اب میرے سسرال والے مجھ سے میری اہلیہ کے جہیز کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ  ہمیں وہ تمام سامان  واپس دیا جائےجو میری اہلیہ کو جہیز میں ملا تھا ،جس میں سے کافی حصہ ہم نے آپس میں وقت گزارتے ہوئے خرچ کردیا ہے۔اب میرا سوال یہ ہےکہ میرے سسرال والوں کا یہ مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شادی کے موقع پر  لڑکی کو  اس کےوالدین اور  گھر  والوں کی جانب سے  جو جہیز ،سامان  دیے جاتے ہیں،وہ سب لڑکی کی ذاتی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں ، شوہر یا اس کے گھر والوں کا ان پر ملکیتی حق نہیں ہوتا۔لہذا اگر بیوی کا انتقال ہو جائے تو اس کا تمام مال، جس میں جہیز کا سامان بھی شامل ہے، ترکہ بن جاتا ہے۔ پھر اس ترکہ کو تمام شرعی ورثاء (مثلاً شوہر، والدین، اولاد وغیرہ) میں ان کے مقررہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے سسرال والوں کا یہ  مطالبہ کرنا کہ پورا جہیز واپس کیا جائے،شرعاًدرست نہیں ہے۔ بلکہ جہیز کا سامان بھی دیگر اموال کی طرح  مرحومہ بیوی کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔البتہ جو سامان باہمی استعمال میں آ کر ختم ہو چکا ہو یا ضائع ہو گیا ہو، اس کا یا اس کی قیمت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، باقی اگر مرحومہ کی اولاد ہے تو شوہر کو بیوی کے ترکہ سے 25 فیصد ملے گا، اور اگر اولاد نہیں ہے، تو ترکہ کا 50 فیصد شوہر کو ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌فإن ‌كل ‌أحد ‌يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."

(كتاب الطلاق، باب النفقة،مطلب فيما لو زفت إليه بلا جهاز،ج:5،ص:585،ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"وأما ‌إذا ‌جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح."

(كتاب النكاح،باب المهر،مطلب أنفق على معتدة الغير،ج:3،ص:157،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌لو ‌جهز ‌ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى ......وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."

(الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1،ص:327،ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں