بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی شرمگاہ دیکھنا غیر مناسب عمل ہے


سوال

کیا میں اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھ سکتا ہوں؟

جواب

میاں بیوی ایک دوسرے کے بدن کو سر سے  پاؤں تک چھو اور دیکھ سکتے ہیں ،مگر ایک دوسرے کی شرگاہ کو دیکھنا مناسب عمل نہیں ہے ،حیا کے خلاف ہے ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے جنابِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر کبھی نہ دیکھا تھا ۔(ترجمہ از مظاہر حق )۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"أما النظر إلى زوجته ومملوكته فهو حلال من قرنها إلى قدمها عن شهوة وغير شهوة وهذا ظاهر إلا أن الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه."

(کتاب الکراهية، باب فی المتفرقات، ج:5، ص:327، ط:رشيدية)

مرقاة المفاتيح شرح میں ہے:

" وعن عائشة قالت: ما نظرت أو ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قط. رواه ابن ماجه. (وعن عائشة) - رضي الله عنها (قالت: ما نظرت) أي حياء منها (أو ما رأيت) أي حياء منه وكذا."

(کتاب النکاح، ج:5، ص:2058، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں