بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی نافرمانی کرنا


سوال

 میں ایک شادی شدہ شخص ہوں اور میرے تین بچے ہیں۔ میں آپ سے اپنے ازدواجی حالات کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ گزارش ہے کہ میرے مسئلے کا شرعی حل بیان فرما دیں:

1. میری ماہانہ آمدنی تقریباً 90,000 روپے ہے۔ اس میں سے میں ہر ماہ 50,000 روپے اپنی بیوی کو دیتا ہوں، اور باقی رقم سے میں گھر کا کرایہ، بجلی گیس، بچوں کی اسکول ٹرانسپورٹ، بچوں کے لیے کھانے پینے کا خرچ، سگریٹ، اور کبھی کبھار دوائیاں وغیرہ برداشت کرتا ہوں۔

2. میری بیوی خود ایک اسکول میں جاب کرتی ہیں اور ان کی تنخواہ تقریباً 80,000 روپے ہے، اس کے علاوہ وہ گھر پر ٹیوشن بھی پڑھاتی ہیں، لیکن وہ اس آمدنی کو گھر کے کسی خرچ میں شامل نہیں کرتیں اور ہمیشہ یہی مطالبہ کرتی ہیں کہ میں ہی سب خرچ اٹھاؤں۔

3. اگر میں ان کے مطالبے کے مطابق پیسے نہ دے سکوں تو وہ مجھ پر چیخنا چلانا، سخت زبان استعمال کرنا، پولیس کی دھمکیاں دینا، یہاں تک کہ میرے دفتر آکر ذلیل کرنے کی دھمکیاں دیتی ہیں۔

4. بچوں کی تعلیم، ٹرانسپورٹ، اور دیگر روزمرہ ضروریات کی زیادہ تر ذمہ داری بھی میرے ہی کندھوں پر ہے۔

5. ان حالات کی وجہ سے میں شدید ذہنی دباؤ میں ہوں اور میری صحت اور سکون پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔

جواب

شریعت کے مطابق شوہر پر بیوی اور بچوں کا نفقہ (رہائش، کھانا، کپڑے، علاج، اور دیگر بنیادی ضروریات) مہیا کرنا واجب ہے، مگر یہ واجب اس کی مالی استطاعت کے مطابق ہے، نہ کہ بیوی کی خواہش یا مطالبے کے مطابق۔

فرمانِ الٰہی ہے:

"عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ" (سورۃ البقرۃ: 236)
 "جس کی حیثیت زیادہ ہو، وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے، اور جس کی حیثیت کم ہو، وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے۔"

اگر شوہر اپنی آمدنی کے مطابق اخلاص سے خرچ کر رہا ہو، تو بیوی کا اس پر مزید دباؤ ڈالنا، سخت زبان استعمال کرنا یا ذلت آمیز سلوک کرنا شرعاً ناجائز، حرام اور نافرمانی (نشوز) کے زمرے میں آتا ہے۔

بیوی کی کمائی، اگرچہ شریعت کے مطابق اُس کی ملکیت ہے، لیکن اگر شوہر نیک نیتی سے گھر چلا رہا ہو، اور بیوی مالی طور پر صاحب استطاعت ہو، تو اس کا تعاون کرنا اخلاقی و دینی طور پر پسندیدہ اور باعثِ اجر ہے۔ تاہم بیوی کا مکمل انکار، سخت رویہ، اور دھمکی آمیز انداز ازدواجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔

ایسے حالات میں شوہر کو چاہیے کہ وہ پہلے نرمی سے بات کرے، اصلاح کی کوشش کرے، پھر اگر بات نہ بنے تو بستر علیحدہ کر کے ناراضی کا اظہار کرے، اور اس کے بعد بھی اصلاح نہ ہو تو اہلِ علم، علماء، یا دارالافتاء سے رجوع کرے۔

شامی میں ہے:

"وفي المجتبى: ‌نفقة ‌العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود."

(الدر المختار مع رد المحتار ، کتاب الطلاق،باب النفقہ 3/ 609 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں