
میری بیوی میرا کہنا نہیں مانتی،ہر کام میں نافرمانی کرتی ہے،گھر میں جھگڑے رہتے ہیں،جس کام سے منع کرتا ہوں وہ جان بوجھ کر کرتی ہے۔
ان حالات سے تنگ آکر میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ میں کیسے طلاق دوں؟کیا میں تحریری طلاق دے سکتا ہوں تاکہ اس کا ثبوت میرے پاس محفوظ ہو اور میں وہ یونین کونسل وغیرہ میں جمع کروں۔
اگر بیوی نافرمانی پر اتر آئے تو شریعت نے اس کی اصلاح کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے، جس کاذکر قرآن مجید میں موجود ہے:پہلا درجہ: نرمی اور حکمت سے سمجھانا اور نصیحت کرنا ۔ دوسرا درجہ:اگر محض نصیحت مؤثر نہ ہو تو شوہر اپنا بسترایک کمرہ میں رہتے ہوئے الگ کردے تاکہ اسے شوہر کی ناراضگی کا احساس ہو اور اپنے فعل پر نادم ہو۔ تیسرا درجہ:اگر اس طرح کی شریفانہ تنبیہ سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر شرعاً تأدیب کے لیے ہلکی مارکی بھی اجازت دی گئی ہے ،جس سے اس کے بدن پر نشان نہ پڑے۔اور چہرے پر مارنا مطلقا منع ہے۔اس کے بعد بھی اگر بیوی باز نہ آئے تو خاندان کے بڑوں سے بات کرکے سمجھانے کی کوشش کریں۔اس کے بعد بھی اگر نباہ ممکن نہ ہو اور شوہر بیوی کے حقوق بھی ادا کر رہا ہو اور مناسب نفقہ اور رہائش کا انتظام بھی کرچکا ہو، اس کے باوجود ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکے اور بیوی مسلسل نافرمانی پر قائم رہے تو ایسی صورت میں نکاح کا مقصد (عفت وسکون )فوت ہوجاتا ہے۔چناچہ ایسی مجبوری کی حالت میں شریعت نے شوہر کو طلاق کااختیار دیا ہے تاکہ دائمی نزاع اور گناہ کے اندیشے سے بچا جا سکے ، ایسی صورت میں زبانی یا تحریری طور پر طلاق دینے سے شوہر گناہ گار نہیں ہوگا۔
باقی جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیوی کی پاکی کے ایام میں جس میں ہم بستری نہ کی ہو ایک طلاقِ رجعی دے دیں، زبانی طور پر یوں کہہ دیں "میں نے ایک طلاق دی" یا لکھ کر دے دیں تاکہ قانونی کاروائی مکمل ہوسکے،اور پھر تین ماہواریاں پوری ہونے تک رجوع نہ کریں ، تین ماہواریاں پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہوجائے گا،اس صورت میں عدت کے دوران رجوع اور عدت کے بعد تجدیدِ نکاح کی گنجائش رہے گی ،نکاح ختم ہونے بعد بھی دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی کی صورت میں تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،اس صورت میں سائل کے پاس آئندہ کے لیے دوطلاقوں کا اختیار ہوگا۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34)﴾ [النساء: 34]
ترجمہ:"اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تمہیں ان کی بد خوئی کا ڈر ہو تو ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو،پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کریں تو ان پر بہانہ مت ڈھونڈو۔"
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها."
(کتاب الطلاق،ج1،ص348،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101580
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن