بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی کمزوری کی وجہ سے اسقاط حمل کروانا


سوال

 میرا ایک بیٹا  ہے وہ 10 ماہ کا ہے، ماں کادودھ پی رہا ہے ، اب اس دوران دوسرا حمل ٹھہر گیا ہے جوکہ40 دن سے کم ہے اب میں اس حمل کو ضائع کرنا چاہتا ہوں۔بیوی کی کمزوری کی وجہ سے اور دودھ  پینے والے بچے کے لیے دودھ ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ پہلے بچےکادودھ 2 سال پورے ہونے کے بعد دوسرا حمل ٹھہر جائے۔بیوی اتنی کمزور ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش ہونے پر 2/3مرتبہ بیہوش ہوئی تھی اب اس دوسرے حمل سے بہت پریشان ہےاپنی کمزوری کی وجہ سے تو کیا اس صورت میں حمل کسی دوا وغیرہ کے  ذریعے سے ساقط کرنا جائز ہے۔ابھی  حمل کےابتدائی ایام ہیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں واقعۃً سائل کی بیوی اتنی کمزور ہے کہ  پہلے بچہ کو دودھ پلانے کے ساتھ ساتھ دوسرا حمل برادشت نہیں کر سکتی ہے اور اس حمل سے پہلے بچے کا دودھ  متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے تو اس وجہ سےحمل کو چار ماہ سے پہلے  پہلے   ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و قالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح".

(3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط: سعید)

الموسوعة الفقهیة الکویتیة میں ہے :

"وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لا تأثم إثم القتل".

(۳۰/ ۲۸۵)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100826

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں