بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی اجازت کے بغیر کیا شوہراپنی مرضی سے بچہ کسی اور کو دے سکتا ہے؟


سوال

کیا میاں بیوی میں علیحد گی کےبعد شوہر اپنی مرضی سے بچہ اپنی بہن یا بھائی کو دے سکتا ہے جب کہ بیوی اس پر راضی نہ ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ بچے کی پرورش والدین پر لازم ہے، اور پرورش میں سب سے زیادہ حق ماں کا ہوتا ہے، خواہ وہ نکاح میں ہو یا نہ ہو،  ابتدائی پرورش کی سب سے زیادہ حق دار ماں ہی ہے۔لڑکا سات سال کی عمر  تک ماں کی پرورش میں رہے گا، اور لڑکی نو سال کی عمر  تک ماں کی پرورش میں رہے گی،  اس کے بعد بچےکی پرورش کی ذمہ داری والد پر عائد ہوتی ہے۔ماں کو پرورش کا حق اس وقت تک حاصل رہتا ہے جب تک وہ بچے کے  کسی غیر محرم سے نکاح نہ کرے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان  علیحدگی کے بعد  ،والد اپنی مرضی سے بچے کو بہن یا بھائی کے حوالے نہیں کر سکتا، جب تک  والدہ  اس پر راضی نہ ہو،کیوں کہ مدتِ پرورش میں بچے کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي."

(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص، 541، ط: دارالفکربیروت)

البحرالرائق میں ہے: 

"(قوله أحق بالولد أمه قبل الفرقة وبعدها) أي: في التربية والإمساك لما قدمناه ولما روي أن امرأة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه السلام أنت أحق به ولأن الأم أشفق وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة رضي الله عنهم حاضرون متوافرون أطلق في الأم."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 4، ص: 181، ط: دارالکتب الاسلامي)

فيه أيضا:

"(قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع) لأنه إذا استغنى يحتاج إلى تأديب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقهم والأب أقدر على التأديب والتعنيف۔۔۔۔وفي غاية البيان والتبيين والكافي أن الفتوى على قول الخصاف من التقدير بالسبع۔۔۔(قوله وبها حتى تحيض) أي الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى۔۔۔ وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 4، ص: 184، ط: دارالکتب الاسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100262

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں