بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی حج کے لیے جمع کردہ رقم اس شرط پر لینا کہ شوہر بعد میں اُسے حج کرائے گا


سوال

میرے شوہر کا کارخانہ تھا،  کام نہ ہونے کی وجہ سے وہ بند ہو گیا تھا ، میرے پاس میرے کچھ ذاتی پیسے تھے جن کا میرے شوہر نے مجھے مالک بنا دیا تھا،  اور میں نے وہ پیسے حج کرنے کے لیے رکھے ہوئے تھے، تو میرے شوہر نے کہا کہ اب کارخانہ بنوانا ہے یا پھر آپ نے حج کرنا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کارخانہ بنوا لیں اور مجھے بعد میں حج کروا دینا۔ اس نےکہاٹھیک ہے،  (اور ایک بیٹے سےیہ بھی کہا کہ تمہاری امی کوایک حج کروانامیرے ذمہ ہے) کارخانے کاپہلا فلور چھت اور دوسرا فلور میرے پیسوں سے بنوایا گیا تھا۔ پھر میرے شوہر کا انتقال ہو گیا اور میرے شوہر مجھے حج بھی نہیں کروا سکے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کارخانے میں میرا بھی حصہ ہے، یا سارا میرے شوہر کے ترکہ  میں شمار ہوگا ؟اور میرے دیے ہوئے پیسوں کا کیا بنے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے جو رقم کارخانے کی تعمیر کے لیے اس شرط پر دی تھی کہ تعمیر کے بعد شوہر اسے حج کروائے گا، تو ایسی صورت میں یہ رقم شوہر کے ذمے قرض شمار ہوگی۔ شوہر کے انتقال کے بعد مذکورہ رقم اس کے ترکہ سے سائلہ کو ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ جس رقم سے کارخانہ تعمیر کیا گیا، وہ پورا کارخانہ شوہر کی ملکیت شمار ہوگا، جوکہ میراث کے شرعی ضابطہ کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."

(فصل في حكم القرض ،كتاب القرض ،ج:7،ص:394،ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ... ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لا يقدم البعض على البعض، وإن كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض يقدم دين الصحة إذا كان دين المرض ثبت بإقرار المريض، وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث."

(كتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں