بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی اخلاقی کمزوریوں کی بناء پر علیحدگی حاصل کرنا


سوال

میری شادی کو 11 سال ہو چکے ہیں، میری بیوی بہت بد زبان ہے، میں اس کی خود سری، زبان درازی ،غلط بیانی اور دین سے دوری کو برداشت کرتا رہا ہوں، اور بچوں کی خاطر اس رشتے کو نبھانے کی پوری کوشش کی ہے، اور وقتا فوقتا ا ُس کے والد کے علم میں بھی معاملات لاتا رہا ہوں ،تقریبا پانچ مہینے پہلے میرے سامنے اس کی بے راہ روی کے متعلق  ٹھوس ثبوت آنے کے بعد سے تین ماہ جو اس نے میرے گھر پر گزارے، اس میں اپنی بیوی کی اصلاح کی پوری کوشش کرتا رہا ہوں ،جس کا کوئی مثبت اثر ظاہر نہیں ہوا، بلکہ مزید بگاڑ کا شکار ہوتی رہی ہے، مثلا اس کا یہ کہنا کہ :" تمہارے ساتھ شادی میری مرضی کے خلاف ہوئی تھی  ،  تمہیں مجھ  سے شادی ہی نہیں کرنی چاہیے تھی ،میں خود کو نہیں بدل سکتی، کسی اور سے شادی کر لو"، مزید میرے اور میرے متعلقین کے  متعلق  یہ کہتی ہے  کہ: " تم سب میری جوتی کے برابر بھی نہیں ہو ،میں  تم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی"، مجھ سے بار بار طلاق کا مطالبہ کیا، اب گزشتہ دو مہینے سے  وہ اپنے  والد کے گھر میں رہ رہی ہے، اس کے والدین اور گھر کے افراد حقیقت حال جاننے کے باوجود اس کو سمجھانے کے بجائے اس کی حمایت اور سرپرستی کر رہے ہیں ،ان سب معاملات کی وجہ سے میں ابھی اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب  اصلاح کا بھی کوئی پہلو نہیں رہا ،لہذا طلاق دینے کا فیصلہ کر چکا ہوں، لیکن رشتہ داروں  میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو طلاق نہ دینے کے حق میں ہیں، سب سے زیادہ میری والدہ کی طرف سے مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں اس کو طلاق  نہ دوں ،کیونکہ  میری بیوی میری ماموں زاد ہے۔

نیزبیوی میرے تینوں بچوں کو لے کر تقریبا دو مہینے سے اپنے والد کے گھر میں رہ رہی ہے،   مجھے اور میرے والدین کو بچوں سے نہ تو ملایا گیا، اور نہ ہی کسی قسم کا رابطہ کرنے دیا جا رہا ہے، ان حالات میں بچوں کا اس کے ساتھ رہنا انتہائی مضر ہے، بیوی  کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ :" بچوں کو نہ تو میرے اور میرے والدین کے حوالے کیا جائے گا اور نہ ہی     ملنے  دیا جائے گا ،اب سوال یہ ہے کہ:

1۔ اس ساری صورتحال  میں طلاق کا شرعی طریقہ کیا ہونا چاہیے  ؟

2۔والدہ کا طلاق نہ دینے کے حوالے سے مجھ پر دباؤ ڈالنا درست ہے یا نہیں  ؟

3۔بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا شرعی حق استعمال کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

1۔صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کی جو اخلاقی  کمزوریاں ذکر کی ہیں اگر یہ واقعۃ درست ہے،اور سائل اپنی بیوی کی آخری حد تک اصلاح کی بھی کوشش کر چکا ہے،لیکن بیوی باز نہیں آرہی تو ایسی صورت میں شریعت نے سائل کو اختیار دیا ہے کہ ایک طلاق ِ رجعی دے کر بیوی سے علیحدگی کرلے،عدت (جس کو ماہواری آتی ہو وہ تین حیض، اور غیر ماہواری والی تین ماہ کے بعد) گزرنے کے بعد سائل اور اس کی بیوی کے مابین نکاح  ختم ہوجائے گا ۔

2۔صورت مسئولہ میں سائل اپنی بیوی کو سمجھانے کے کوشش مکمل کر چکا ہے،اس کے بعد بھی بیوی اپنی اخلاقی کمزوریوں سے باز نہیں آرہی تو سائل کو علیحدگی حاصل کرنے کا مکمل اختیار ہے،اگر والدہ طلاق دینے سے انکار کررہی ہیں اور ان کو اصلاح کی امید ہے تو ان کی خواہش کے احترام میں سائل اپنا فیصلہ مؤخر کردے ،تاکہ والدہ کی دل آزاری بھی نہ ہو،اگر والدہ کی کوشش بھی کارگر نہ ہو تو سائل کو طلاق دینے کااختیار ہے ۔

3۔واضح رہے کہ بچوں کے نابالغ ہونے کی صورت میں پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہے،جب بچہ سات سال ، اور  بچی نو سال کی عمر کو پہنچ جائے تو والدہ کا حقِ پرورش ساقط ہوجائے گا،اس کے بعد بچوں کی تعلیم و تربیت والد کی ذمہ داری ہے وہ بچوں کو لینے کا حقدار ہوتا ہے ،بلوغت کے بعد اولاد کو اختیار ہوتاہے والدین میں سے جس کے ساتھ رہے،بہر دو صورت  بچوں کا نفقہ والد کے ذمہ ہی لازم ہوتا ہے۔نیز بچوں کا والدین میں سے کسی ایک کے پاس رہنے کی صورت میں دوسرے کو   ملنے کا مکمل حق حاصل ہے،اولاد  کو والدین میں سے کسی ایک کی ملاقات سے منع کرنا شرعاً درست نہیں ہے،بلکہ ظلم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ  میں اگر بچہ ہو، اور اس کی عمر سات سال سے کم ہو تو ایسی صورت میں اس کی پرورش کا حق  سائل کی بیوی کو حاصل ہے، اور اگر  عمر سات سال سے زائد ہے تو پھر اس کی پرورش کا حق سائل کو حاصل ہوگا، اور اگر بچی ہو  ، اور  عمر نو سال  سے کم ہو تو اس صورت میں بھی   اس کی پرورش کا حق  سائل کی بیوی کو حاصل  ہوگا، اور اگر عمر نو سال سے زائد ہے  تو پھر اس کی پرورش کا حق سائل کو حاصل ہوگا،بہر دو صورت  بچے جس کے پاس بھی  ہوں ایک دوسرے کو ملاقات سے روکنا شرعاً بالکل درست نہیں ہے

فتاوی ہندیہ میں  ہے :

"(أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها."

(کتاب الطلاق، الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه، ‌‌الطلاق السني، ج : 1، ص : 348، ط : رشیدیه)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا"

(قوله: حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده، والمراد بالاستنجاء تمام الطهارة بأن يتطهر بالماء بلا معين، وقيل مجرد الاستنجاء وهو التطهير من النجاسة وإن لم يقدر على تمام الطهارة زيلعي أي الطهارة الشاملة للوضوء. "

وفيه أیضا:

"وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة ، ج :3، ص : 571 /566، ط : سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں