بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے والدین سے ملاقات کے لیے جانے کی شرعی مدت


سوال

(1) اگر شوہر بیوی کو والدین سے ملاقات کے لیے میکے جانے سے روکےتو حکم کیا ہے؟ اور کتنے عرصے بعد بیوی والدین کی زیارت کے لیے جا سکتی ہے؟

(2) اگر شوہر کسی ایک جائز کام کا حکم دے اور بیوی کے والد اس کے برعکس کام کا حکم دے  اور وہ دونوں کا م  جائز ہو تو کس کا حکم ماننا لازم ہے؟

(3) اگر شوہر بیوی کو حکم دے کہ گھر سے باہر جانے یا والدین کے ہاں جانے کے لیے میرے والد (سسر) سے اجازت لے، تو کیا سسر سے اجازت لینا لازم ہے؟

(4) اگر شوہر بہن یا بھائی کی شادی میں جانے سے منع کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

(1) شوہر کے لیے شرعاً جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے والدین سے بات چیت کرنے یا ان سے ملاقات کرنے سے روکے، ملاقات کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر والدین خود بیٹی کے پاس آ سکتے ہوں تو انہیں آ کر ملاقات کرنی چاہیے اور پھر واپس چلے جائیں، اور اگر کسی وجہ سے ان کے لیے آنا ممکن نہ ہو تو بیوی ہفتے میں ایک مرتبہ ان سے ملاقات کے لیے جا سکتی ہے، جس سے شوہر کو منع کرنے کا حق حاصل نہیں۔

(2) واضح رہے کہ بیوی کے ذمے شوہر اور والدین دونوں کے حقوق عائد ہوتے ہیں، اور شریعتِ مطہرہ کی حدود میں رہتے ہوئے ہر ایک کے حقوق ادا کرنا اس کی استطاعت کے مطابق لازم ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں عورت کو جائز امور میں اپنے شوہر کی مکمل اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا اگر شوہر بیوی کو کسی جائز کام کا حکم دے تو بیوی پر اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق اس کی اطاعت لازم ہے۔ البتہ کسی خلافِ شرع معاملے میں شوہر کی اطاعت جائز نہیں۔
اسی طرح اولاد پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ والدین کے ان تمام احکام کو بجا لائے جو شریعت کے مطابق ہوں، اور ہر حال میں ان کی نافرمانی اور دل آزاری سے بچے۔

صورتِ مسئولہ میں بیوی کے لیے شوہر کی اطاعت کو ترجیح دینا ضروری ہے، بشرطیکہ وہ حکم شرعاً ناجائز نہ ہو اور بیوی کی استطاعت و وسعت کے مطابق ہو، اس لیے کہ نکاح کے بعد بیوی شوہر کے تابع ہوتی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ والدین کا ادب، احترام اور حسبِ استطاعت ان کی خدمت بھی بدستور ضروری ہے۔

(3) بیوی کو کسی بھی مقصد کے لیے گھر سے باہر جانے کے لیے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے، جبکہ ساس سسر سے اجازت لینا شرعاً لازم نہیں۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ وہ ساس سسر کو بھی آگاہ کر کے جائے۔ اگر شوہر بیوی کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ گھر سے باہر جاتے وقت سسر سے اجازت لے، تو اس صورت میں شوہر کی فرمانبرداری کرتے ہوئے سسر سے اجازت لینا بھی ضروری ہوگا۔
تاہم  سسر کو  بھی یہ حق حاصل نہیں ہوگاکہ وہ اپنی بہو کو ہفتے میں ایک مرتبہ والدین سے ملاقات یا سال میں ایک مرتبہ دیگر محارم سے ملنے کے لیے جانے سے روکے۔

(4)اسلام ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتاہے  اور صلہ رحمی میں اپنے اقارب کی خوشی غمی میں شریک ہونا بھی شامل ہے ،اس لیے شادی بیاہ کےمواقع پر  اگر  کسی قسم کے غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جا رہا ہو تو اسے اجازت دے دینی چاہیے۔ اس لیے کہ شادی اور اس نوعیت کی خوشی کے مواقع زندگی میں کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں روکنے سے صلۂ رحمی میں خلل پڑنے اور رشتہ داری و باہمی تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ شریعتِ مطہرہ نے صلۂ رحمی کی سخت تاکید فرمائی ہے اور اسے قطع کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔ البتہ اگر وہاں کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں شوہر کا بیوی کو وہاں جانے سے روکنے کا حق حاصل ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها."

(باب عشرۃ النساء،ج:2،ص:281، ط: قدیمی)

ترجمہ:" رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔"

وفیہ ایضاً:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المرأة ‌إذا ‌صلت ‌خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت".

(باب عشرة النساء،ج:2،ص:971،ط:: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"  حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے  (ادا اور قضا) رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔"

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج."

(کتاب النکاح،فصل وجوب طاعۃ الزوج،ج:2،ص:334،ط:دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أراد الزوج أن يمنع أباها، أو أمها، أو أحدًا من أهلها من الدخول عليه في منزله اختلفوا في ذلك، قال بعضهم: لايمنع من الأبوين من الدخول عليها للزيارة في كل جمعة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها، وبه أخذ مشايخنا -رحمهم الله تعالى-، وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان، وقيل: لايمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرةً، وعليه الفتوى."

(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر، الفصل الثانی،ج:11،ص:415،ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"الصحيح المفتى به من ‌أنها ‌تخرج ‌للوالدين في كل جمعة بإذنه وبدونه، وللمحارم في كل سنة مرة بإذنه وبدونه."

(باب النفقة،مطلب في الكلام على المؤنسة،ج:3،ص:602، ط:سعید)

عمدة القاري میں ہے :

"لا خلاف ‌أن ‌صلة ‌الرحم ‌واجبة في الجملة، وقطيعتها معصية كبيرة، والأحاديث تشهد لهذا، ولكن للصلة درجات بعضها أرفع من بعض، وأدناها ترك المهاجرة وصلتها بالكلام ولو بالسلام، ويختلف ذلك باختلاف القدرة والحاجة، فمنها واجب، ومنها مستحب. ولو وصل بعض الصلة ولم يصل غايتها لا يسمى قاطعا، ولو قصر عما يقدر عليه وينبغي له أن يسم واصلا".

(کتاب  البيوع، باب من أحب البسط في الرزق،ج:11،ص: 181،ط:ودار الفكر)

مرقاة المفاتيح میں ہے :

"ولا خلاف أن ‌صلة ‌الرحم ‌واجبة في الجملة، وقطيعتها معصية كبيرة، وللصلة درجات بعضها أرفع من بعض، وأدناها ترك المهاجرة، وصلتها بالكلام ولو بالسلام، ويختلف ذلك باختلاف القدرة والحاجة، فمنها واجب، ومنها مستحب، ولو وصل بعض الصلة ولم يصل غايتها ولا يسمى قاطعا، ولو قصر عما يقدر عليه وينبغي له أن يفعله لا يسمى واصلا (متفق عليه)" .

(کتاب الآداب،باب البر والصلة،ج:7،ص:3085،ط:دار الفكر)

در مختار میں ہے :

"(‌وصلة ‌الرحم ‌واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» وفي الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر.

وفی الرد(قوله ‌وصلة ‌الرحم ‌واجبة) نقل القرطبي في تفسيره اتفاق الأمة على وجوب صلتها وحرمة قطعها للأدلة القطعية من الكتاب والسنة على ذلك قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام وفي الأحاديث إشارة إلى ذلك كما بينه في تبيين المحارم (قوله ولو كانت بسلام إلخ) قال في تبيين المحارم: وإن كان غائبا يصلهم بالمكتوب إليهم، فإن قدر على المسير إليهم كان أفضل وإن كان له والدان لا يكفي المكتوب إن أرادا مجيئه وكذا إن احتاجا إلى خدمته، والأخ الكبير كالأب بعده وكذا الجد وإن علا والأخت الكبيرة والخالة كالأم في الصلة، وقيل العم مثل الأب وما عدل هؤلاء تكفي صلتهم بالمكتوب أو الهدية اهـ. وتمامه فيه".

( ‌‌كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص: 411،ط:دار الفكر)

فتاوہ رحیمیہ میں ہے :

لفظ ارحام جمع ہے رحم کی ،رحم بچہ دانی کو کہتے ہیں ،جس میں ولادت سے پہلے ماں کے پیٹ میں بچہ رہتاہے ،چونکہ ذریعہ قرابت یہ رحم ہی ہے ،اس لیے اس سلسلہ کے تعلقات وابستہ رکھنے کوصلہ رحمی اور رشتہ داری کی بنیاد پر جو فطری طور پر تعلقات پیداہوگئے ان کی طرف سے بے توجہی وبے التفاتی برتنے کو قطع رحمی سے تعبیر کیا جاتاہے ۔

(صلہ رحمی کے معنی  اور اس کے فضائل ،ج:3،ص:222،ط:دار الاِشاعت)

 

فقط وللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707101599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں