
شادی کے چھ سال بعد میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، اس کے بعد ہم نے دوبارہ نکاح کیا اور باہمی رضامندی سے زندگی گزار رہے تھے، بعد میں میری بیوی طلاق کا مطالبہ کرنے لگی، لیکن میں اس معاملے کو ٹالتا رہا، ایک دن اُس نے اصرار کیا کہ ہم رضامندی سے علیحدہ ہو جائیں، تو میں نے کہا: "ٹھیک ہے، میں نے علیحدہ کر دیا ہے" اور میری نیت اس وقت طلاق ہی کی تھی، اور اس پر ہم دونوں راضی بھی تھے، لیکن اب بیوی کے گھر والے کہتے ہیں کہ اس طرح طلاق واقع نہیں ہوتی، اور خود بیوی بھی انکار کر رہی ہے کہ ميں نے طلاق یا علیحدگی کا کوئی مطالبہ کیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ كيااس صورت میں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ پہلی دو طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح ہونے پر شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا یا ازسرنو تین طلاقوں کا؟
صورت مسئولہ میں سائل نےدوسری مرتبہ نکاح کے بعدجب اپنی بيوی سےکہاکہ"ٹھیک ہے، میں نے علیحدہ کر دیا ہے"طلاق کی نیت کےساتھ تواس سے سائل کی بیوی پرتیسری طلاق واقع ہوئی اوروہ سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی،اب نہ رجوع کی گنجائش ہےاور نہ دوسری مرتبہ نکاح کی گنجائش ہے،سائل کی بیوی اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگرحمل نہ ہواور اگرحمل ہوتوبچےکی پیدائش تک کامدت)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
اب جب اس نے اس کو استعمال کر لیا تو اب مزید کسی طلاق کا کوئی حق باقی نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال . . . . . . . . . وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي."
(کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الخامس في الكنايات، ج:1، ص:375، ط:دارالفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد."
(کتاب الطلاق، فصل في بيان حكم الطلاق، ج:3، ص:180، ط:دارالکتب العلمیة)
بہشتی زیورمیں ہے:
"جیسے بی بی نے غصےمیں آکرکہاکہ میراتیرانباہ نہ ہوگامجھے طلاق دیدےاس نےکہااچھامیں نے چھوڑدیا تویہاں عورت یہی سمجھےکہ مجھےطلاق دیدی۔"
(چوتھاحصہ، کتاب الطلاق، مسئلہ نمبر:12 ص:207، ط:اسلامک بک سروس)
کفایت المفتی میں ہے:
"ایک یادومرتبہ صریح طلاق دینےکےبعدرجوع ہوسکتاہے اور رجعت کرلینے سے بیوی نکاح میں لوٹ آتی ہے یہ طلاقیں شمار میں قائم رہتی ہیں یعنی دوطلاقیں دےکررجعت کرلینےکے بعداگرایک طلاق دیدے گاتوپہلی دوکے ساتھ مل کرتین طلاق کاحکم ہوجائےگااورطلاق مغلظہ ہوجائےگی،رجعت اس حرمت کوجوطلاق سے پیداہوتی ہے زائل کردیتی ہے مگرطلاق کے شمارکوزائل نہیں کرتی۔"
(کتاب الطلاق، تیرہواں باب طلاق بائن اوررجعی، ج:ششم، ص:392، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102153
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن