بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے پلاٹ پر اس کی اجازت سے اپنے لیے تعمیر کی تواس کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

20 سال پہلے میں نے اپنی بیوی کے نام سے پلاٹ خریداتھا اور اس پلاٹ کی فائل اپنی بیٹی کودےدی تھی،اور ابھی تین سال سے اس کو بناکر اس میں رہائش پذیرہیں۔ایک دوسرا پلاٹ بیٹی کےنام سے خریدا اور فائل اس کے حوالہ کرنا چاہی تو اس نے لینے سے منع کیااور وہ فائل اب میرے پاس ہے، اس دوسرے پلاٹ کے لیے میں نے اپنے دوسرے داماد سے قرض لیاتھا۔

کاروبار میں مجھے نقصان ہوا تو اپناقرض ادا کرنے کے لیےمیں نے اپنی بیٹی کےنام پر پلاٹ کوبیچنے کاارادہ کیااور بیٹی نے بھی اجازت دے دی،اتنے میں میرے بڑےداماد نے کسی مفتی کا فتوی وائس میں بھیجا کہ وہ کہہ رہےتھے کہ جو چیزیں آپ کے سسر کی ملکیت میں ہے وہ اس کے ورثاءمیں تقسیم ہوگی اور جو ساس کی ملکیت ہےوہ اس کے ورثاء میں ہوگی،اور یہ بھی کہا کہ آپ کےسسر نےآپ کی ساس کے نام جو پلاٹ خریداہےوہ اس کی ملکیت ہے اور جو پیسہ وہ آپ کی ساس کو دیتارہاہےوہ بھی اس کی ملکیت ہے،اور جو چیزیں اس نے خریدی ہیں وہ سب اس کی ملکیت ہے۔

1:میرا سوال یہ ہےکہ میرے لیےکپڑے،جوتےاور سب چیزیں وہ خریدتی تھی توکیا یہ سب کچھ اس کی ملکیت ہے؟

2: اس کو میں جو پیسے دیتارہاہوں کچھ کہے بغیرکہ یہ امانت ہے یا ھدیہ یا اخراجات کے نام پر توکیا وہ سارے پیسے اس کے ہوں گے؟

3:میرے داماد نے جس مفتی صاحب سے فتوی وائس پربھیجا تھا اس کے بعد میری بیوی مجھ سے بات تک نہیں کرتی،مجھ سے پانی تک کا نہیں پوچھتی تو اس کا کیاحکم ہے؟

مجھے خطرہ ہے کہ کہیں کل کو مجھے بچوں کے سامنے ذلیل اور بےعزت کرکے گھرسےہی نہ نکال دے تو اس صورتحال کےپیش نظر میرا اس کے ساتھ رہنا کیسا ہے؟کیا یہ بہتر ہے کہ میں خود ہی نکل جاؤں؟ 

وضاحت:بیوی اور بیٹی کے لیے پلاٹ ان دونوں کو مالک بنانے کی نیت سے خریداتھا،اور وہ دونوں اگر بیچنا چاہتے تھے تو ان کو اس کا اختیار تھا،میں کاروبار کرتاتھااور اس سے جتنے پیسے آتے تھے میں کمیٹی وغیرہ نکال کر باقی گھر پر رکھواتاتھا کہ جب بھی کسی کو ضرورت ہوگی تو اس سے استعمال کرسکے گی،میری نیت کچھ بھی نہیں تھی اور نہ ہی بیوی کو مالک بنانے کی نیت سے وہ پیسہ ان کو دیتارہا،مذکورہ گھر اسی پیسوں سے تعمیر شدہ ہے،اور گھر میں نے بیوی کی اجازت سے فیملی کے رہنے کے لیے تعمیر کرایاتھا،بیوی  کے لیے تعمیر نہیں کیاتھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے اگرواقعی  اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے پلاٹ خریدکرمکمل ان کے قبضہ وتصرف میں بھی دیدیاتھاتووہ دونوں اپنے اپنے پلاٹ کے مالک بن چکے تھے،البتہ سائل نے بیوی کے پلاٹ پر جو گھر تعمیر کیاہے،اس پر جتنا خرچہ آیاہےوہ سائل کی بیوی شوہر کواداکردے،البتہ اگر شوہر معاف کردےتو یہ بھی جائز ہے۔

1:سائل کی بیوی نے سائل کے لیے جوجوتے،کپڑےوغیرہ خریدے وہ سائل کی ملکیت ہیں ۔

2:سائل نے جو پیسے بیوی کو بغیر کسی نیت کےدیےتھے ان میں سے جورقم بیوی کےپاس باقی ہو وہ سائل لینے کاحق دار نہیں۔

3:سائل کی بیوی کا سائل کے ساتھ مذکورہ نامناسب رویہ رکھناشرعاًدرست نہیں،کیونکہ شریعت میں شوہر کے بہت سارے حقوق بیوی کے ذمے لازم کیے گئے ہیں،پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نےارشادفرمایا:کہ"جو عورت پانچوں وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھے اور اپنی آبرو کو بچاۓ رکھےاور اپنے شوہر کی تابعداری کرتی رہے تو اس کو اختیار ہے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں چلی جاۓ،ایک دوسری روایت میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ:"(بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے"،ایک اور روایت میں ہے:"کہ جب کسی مرد نے اپنے پاس اپنی عورت کو لیٹنے کے لیے بلایا اور وہ نہ آئی پھر وہ اسی طرح غصہ میں لیٹا رہا تو صبح تک سارے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں"،

لہذا بیوی کو اچھے انداز سے سمجھایاجاۓ اور ابھی سے  گھر سے جدائی اختیار نہ کی جاۓ،البتہ احتیاطاً اپنے لیے کسی دوسری رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا مناسب ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية."

(کتاب النکاح، باب عشرة النساء، الفصل الثانی، ج: 2، ص: 971، ط: المکتب الإسلامي،بیروت)

وفیہ ایضاً:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي".

 (كتاب النكاح، باب عشرة النساء،الفصل الثانی،ج:2،ص: 91،ط: المکتب الإسلامي،بیروت) 

دوسری روایت میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح . متفق عليه."

(کتاب النکاح، باب عشرة النساء، الفصل الأول، ج: 2، ص: 968، ط: المکتب الإسلامي،بیروت)

جامع الفصولین میں ہے:

"عمر دار امرأته فمات وتركها وابنا فلو عمرها بإذنها فالعمارة لها والنفقه دين عليها فتغرم حصة الإبن، ولو عمرها لنفسه بلا إذنها فالعمارۃ ميراث عنه وتغرم قيمة نصيبه من عمارة وتصير كلها لها ولو عمرها لها بلا إذنها قال النسفي العمارة لها ولا شيء عليها من النفقه فإنه متبرع."

(الفصل الرابع والثلاثون في الأحكام، ج:2، ص: 220 و 221،ط: سعيد/ اسلامي كتب خانه كراچى)

البحر الرائق میں ہے:

"قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي ‌إذا ‌عمر ‌لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه ويكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك قال رحمه الله (ولو عمرها لها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) أي عمرها لها بغير إذنها كان لها البناء وهو متطوع بالبناء فلا يكون له الرجوع عليها به؛ لأنه لا ولاية له في إيجاب ذلك عليها."

(‌‌مسائلِ شتىٰ،عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها، ج: 8، ص: 553، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں