
میرے شوہر کچن کا سارا سامان لے کے دیتے ہیں ۔ سبزی ، پھل سب لیتے ہیں۔گھر بھی اپنا ہے۔نوکری کے سلسلہ میں شہر سے باہر رہتے ہیں۔ ہفتہ کے بعد گھر آتے ہیں۔ مجھے جیب خرچ نہیں دے کر جاتے۔ بچوں کی اور میری دوا کا خرچہ نہیں اٹھاتے، بچوں کے دودھ اور ڈائپر کا خرچ میں ہی پورا کرتی ہوں۔ بچوں اور میرے کپڑے زیادہ تر میں خود ہی لیتی ہوں ۔ درزی کا بل ہمیشہ میں دیتی ہوں۔ جیب خرچ کی بات کروں تو غصہ کرتے ہیں نان نفقہ تو اٹھا رہا ہوں سارا۔ کیا نان نفقہ میں صرف 3 وقت کا کھانا اور سر پر سایہ دینا ہوتا ہے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر پر اپنی بیوی کے لباس کا خرچ لازم ہے، صرف کھانا پینا اور رہائش دینے سے شوہر کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔ اسی طرح سائلہ کے شوہر پر بچوں کے کپڑے، دوا اور دیگر ضروریات کے اخراجات بھی لازم ہیں۔
نیز اس معاملہ میں سال میں کتنی مرتبہ کتنی قیمت کے لباس سائلہ کے شوہر کے ذمہ ہیں اور سائلہ کی دوا کا خرچہ کس کے ذمہ ہے ان امور میں اصول پر فیصلہ کرنے کے بجائے سائلہ اور اس کے شوہر کو ایک دوسرے کی رعایت کر کے چلنا چاہیے۔ نکاح کا رشتہ اصولوں پر نہیں چلا کرتا ، دونوں ایک دوسرے کی رعایت کے ساتھ چلیں گے تو رشتہ چل سکے گا ورنہ پھر دونوں حقوق واجبہ کی تعیین میں لگ جائیں اور محبتیں ختم ہوجائیں گی۔ لہذا شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے حساب سے جس قدر اچھا لباس سال میں جتنی مرتبہ بیوی کو فراہم کرسکے فراہم کرے، سائلہ کو چاہیے کہ اگر شوہر تنگ دست ہے تو کوشش کرکے کم سے کم خرچ میں اپنے لباس کی ضرورت کو پوار کرلے۔ اسی طرح بچوں کے لباس اور دیگر اخراجات میں یہ ہی منہج اپنانا چاہیے۔ نیز سائلہ کے دوا کے اخراجات اصولا شوہر پر لازم نہیں ہیں لیکن اس میں بھی شوہر کو بیوی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتفرض لها الكسوة في كل نصف حول مرة) لتجدد الحاجة حرا وبردا»
(قوله وتفرض لها الكسوة) كان على المصنف أن يصل الكلام على الكسوة بعضه ببعض، بأن يقدم قوله وتزاد في الشتاء إلخ هنا أو يؤخر هذه الجملة هناك ط. واعلم أن تقدير الكسوة مما يختلف باختلاف الأماكن والعادات فيجب على القاضي اعتبار الكفاية بالمعروف في كل وقت ومكان، فإن شاء فرضها أصنافا، وإن شاء قومها وقضى بالقيمة، كذا في المجتبى. وفي البدائع: الكسوة على الاختلاف كالنفقة من اعتبار حاله فقط أو حالهما بحر (قوله في كل نصف حول مرة) إلا إذا تزوج وبنى بها ولم يبعث لها كسوة فتطالبه بها قبل نصف الحول، والكسوة كالنفقة في أنه لا يشترط مضي المدة بحر عن الخلاصة. وحاصله أنها تجب لها معجلة لا بعد تمام المدة. واعلم أنه لا يجدد لها الكسوة ما لم يتخرق ما عندها أو يبلغ الوقت الذي يكسوها كافي الحاكم وفيه تفصيل سيأتي قبيل قوله ولخادمها."
(کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج:3،ص:580،ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله كما لا يلزمه مداواتها) أي إتيانه لها بدواء المرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة هندية عن السراج. والظاهر أن منها ما تستعمله النفساء مما يزيل الكلف ونحوه، وأما أجرة القابلة فسيأتي الكلام عليها."
(کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج:3،ص:575،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن