بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے حقوقِ زوجیت سے انکار اور غیر شرعی طریقے سے خواہش پوری کرنے کا حکم


سوال

1-بیوی اگرشوہر کے حقوقِ زوجیت کے لیے آمادہ نہ ہو تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟نیز اگر اس صورت میں شوہر بیوی کے جسم کے کسی اور حصے سے اپنی خواہش پوری کرے تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

2-بیوی کے حقوق ادا کرنے میں اگر کوئی غیر شرعی عمل ہوجائے تو اس کے بعد توبہ کرنے کی گنجائش ہے ؟اور انسان توبہ و تائب ہوسکتا ہے؟غیر شرعی عمل سے مراد منہ کے راستے سے خواہش پوری کرنا ہے۔

جواب

1-واضح رہے کہ جب شوہر بیوی کو اپنی طرف یعنی جماع کی طرف بلائے اور عورت کا کوئی شرعی عذر نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ شوہر  کی اطاعت کرے۔ احادیث میں شوہر کے بلانے پر بیوی کے نہ جانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: "جب کسی مرد نےاپنی بیوی کو جماع کی طرف بلایا اور اس نے انکار کیا اور شوہر نے رات غصے میں گزاری تو فرشتے صبح تک اس بیوی پر لعنت بھیجتے ہیں" ۔

لہذابیوی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کو بغیر کسی شرعی عذر کے قریب آنے نہ دے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شریعت نے شوہر پر بھی یہ لازم کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق اور اس کی صحت اور رغبت کا لحاظ رکھے اور اس کی استطاعت اور طاقت سے زیادہ اس کو ہمبستری کرنے پر مجبور نہ کرے،نیز اگر شوہر دبر کے راستے کے علاؤہ بیوی کے جسم کے کسی اور حصے (ہاتھ ،پنڈلی وغیرہ ) سے اپنی خواہش پوری کرتا ہے، توایسا کرنا بھی جائز ہے ۔

2-  شوہر کی شرمگاہ کو منہ میں لینا ایک غیرشریفانہ اورغیرمہذب عمل ہے، اس سے اجتناب کیا جائے ۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(باب عشرة النساء، ج:2، ص:280، ط:قدیمی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور."

(باب عشرۃ النساء، ج:5، ص:2121، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"و حقّه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به.(قوله: في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به."

(باب القسم،ج:3، ص:208، ط:قدیمی)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وكان ابن عمر - رضي الله تعالى عنهما - يقول: الأولى أن ينظر إلى فرج امرأته وقت الوقاع ليكون أبلغ في تحصيل معنى اللذة كذا التبيين. قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: سألت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - ‌عن ‌رجل ‌يمس ‌فرج ‌امرأته وهي تمس فرجه لتحرك آلته هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا وأرجو أن يعطى الأجر، كذا في الخلاصة ويجرد زوجته للجماع إذا كان البيت صغيرا مقدار خمسة أذرع أو عشرة قال مجد الأئمة الترجماني وركن الصباغي والحافظ السائلي لا بأس بأن يتجردا في البيت، كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب الثامن، ج:5، ص:327، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ  میں ہے:

"‌‌‌لمس ‌فرج ‌الزوجة: اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته. قال ابن عابدين: سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو أن يعظم الأجر.وقال الحطاب: قد روي عن مالك أنه قال: لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع، وزاد في رواية: ويلحسه بلسانه، وهو مبالغة في الإباحة، وليس كذلك على ظاهره.

وقال الفناني من الشافعية: يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع، وكراهته بعده."

(الاحکام المتعلقة بالفرج، ج:32، ص:91، ط:وزارۃ الاوقاف و الشئون الاسلامیة ۔ الکویت)

موسوعۃ الفقہ على المذاہب الأربعۃ میں ہے:

"قال أبو الوليد ابن رشد القرطبي رحمه الله: قال أصبغ: سمعت ابن القاسم وسئل: أيكلم الرجل امرأته وهو يطأها؟ قال: نعم، ويعيد بها، لا بأس بذلك إجازة منه، قال أصبغ: قال ابن القاسم: حدثنا الدراوردي عن من حدثه عن القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق أنه سئل عن التخير عند ذلك، فقال: «إذا خلوتم فاصنعوا ما شئتم»، فسئل أصبغ: أينظر الرجل إلى فرج امرأته عند الوطء؟ قال: نعم، لا بأس بذلك، قيل له: إن قوما يذكرون كراهيته، فقال: من كرهه إنما كرهه بالطب لا بالعلم، لا بأس به وليس بمكروه.

قال محمد بن رشد: في أصل السماع عند السؤال عن نظر الرجل إلى فرج امرأته عند الوطء قال: نعم، ويلحسه بلسانه، فطرح العتبي بلفظه (ويلحسه) لأنه استقبحه، وفي كتاب ابن المواز: ويلحسه بلسانه وهو أقبح، إلا أن العلماء يستجيزون مثل هذا إرادة البيان، ولئلا يحرم ما ليس بحرام، فإن كثيرا من العوام يعتقدون أنه لا يجوز للرجل أن ينظر إلى فرج امرأته في حال من الأحوال، وقد سألني عن ذلك بعضهم فاستغرب أن يكون ذلك جائزا، وكذلك تكليم الرجل امرأته عند الوطء لا إشكال في جوازه ولا وجه لكراهيته."

(‌‌‌‌‌‌كتاب النكاح، فصل في أحكام النظر واللمس، النظر بين الزوجين، ج:14، ص:222/223، ط:دار التقوى)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101646

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں