بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے حقِ شب باشی سے متعلق ایک روایت کی تخریج اور اس کی کم از کم واجب مقدار


سوال

 میں نے ایک بیان میں سنا تھا کہ ایک عورت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور شکایت کی کہ میرا شوہر زیادہ تر عبادت میں مشغول رہتا ہے اور میرے حقوق ادا نہیں کرتا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ چونکہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے، اس لیے وہ تین راتیں اپنی عبادت یا دیگر مشاغل میں گزار سکتا ہے، لیکن چوتھی رات بیوی کا حق ہے اور اسے بیوی کے ساتھ گزارنا ضروری ہے۔

1. سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو اس کا حوالہ بھی مرحمت فرما دیں۔

2. اگر مذکورہ واقعہ درست ہو تو کیا اس سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے کہ ایک بیوی والے شخص پر بھی کم از کم ہر چوتھی رات (علاوہ سفر) بیوی کے پاس گزارنا ضروری ہے؟

3. اگر ایک جوان اور صحت مند شوہر، جبکہ اس کی بیوی موجود ہو اور وہ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر قادر بھی ہو، صرف ذہنی سکون، ذاتی مصروفیات، عبادت، مطالعہ، کاروبار یا دیگر دینی و دنیاوی مشاغل کی وجہ سے اکثر راتیں الگ بستر پر گزارے اور مثلاً  ہفتے میں صرف ایک یا دو راتیں بیوی کے ساتھ گزارے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایسی صورت میں شوہر گناہگار ہوگا یا یہ معاملہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی، ضرورت اور عرف پر موقوف ہے؟

4. نیز فقہائے کرام کے نزدیک بیوی کے ازدواجی حقوق (شب باشی) کے بارے میں کم از کم واجب حد کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ 

جواب

1: مذکورہ روایت مصنف عبدالرزاق میں متعدد سندوں کے ساتھ حضرت شعبی، حضرت قتادہ اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہم اللہ کے واسطے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے، تاہم محدثین کے نزدیک ان تمام اسانید میں انقطاع  ہے۔

"عن الثوري عن جابر ومالك بن مغول عن الشعبي، قال: جاءت امرأة إلى عمر، فقالت: زوجي خير الناس، يقوم الليل ويصوم النهار، فقال عمر: لقد أحسنت الثناء على زوجك، فقال كعب بن سور: لقد اشتكت، فأعرضت الشكية، فقال عمر: اخرج مما قلت، قال: أرى أن تنزله بمنزلة رجل له أربع نسوة، له ثلاثة أيام ولياليهن، ولها يوم وليلة .

 عن ابن عيينة عن زكريا بن ٲبي زائدة عن الشعبي، قال: أتت امرأة عمر، فقالت: يا أمير المؤمنين، زوجي خير الناس، يصوم النهار، ويقوم الليل، والله، إني لأكره أن أشكوه، وهو يعمل بطاعة الله عز وجل، والسلام عليكم ورحمة الله.

فقال كعب بن سور: ما رأيت كاليوم شكوى أشد ولا عدوى أجمل، فقال عمر: ما تقول؟ قال: تزعم أنه ليس لها من زوجها نصيب؟ قال: فإذا فهمت ذلك فاقض بينهما، قال: يا أمير المؤمنين، أحل الله من النساء مثنى وثلاث ورباع، فلها من كل أربعة ايام يوم يفطر ويقيم عندها، ومن كل أربع ليال ليلة يبيت عندها .

 عن معمر عن قتادة قال: جاءت امرأة إلى عمر، فقالت: زوجي يقوم الليل، ويصوم النهار، قال: أفتأمريني أن أمنعه قيام الليل وصيام النهار؟ فانطلقت، ثم عاودته بعد ذلك، فقالت له مثل ذلك وردّ عليها مثل قوله الأول، فقال له كعب بن سور: يا أمير المؤمنين، إن لها حقا، قال: وما حقها؟ قال: أحل الله له أربعا، فاجعل لها واحدة من الأربع، لها في كل أربع ليال ليلة، وفي أربعة أيام يوما، قال: فدعا عمر زوجها، وأمره أن يبيت معها من كل أربع ليال ليلة، ويفطر من كل أربعة أيام يوما.

 أخبرنا عبد الرزاق قال: أخبرنا ابن جريج، قال: أخبرني بن أبي لبيد عن أبي سلمة بن عبد الرحمن: أن امرأة جاءت عمر، فقالت: زوجي رجل صدق، يقوم الليل، ويصوم النهار، ولا أصبر على ذلك، قال: فدعاه، فقال: لها من كل أربعة أيام يوم، وفي كل أربع ليال ليلة ".

(أخرجها عبد الرزاق في مصنفه في باب حق المرأة على زوجها وفي كم تشتاق (7/ 149) برقم (12586 ، 12587 ، 12588 ، 12589 )، ط. المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة الثانية :1403)

2: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ابتدائی موقف یہ تھا کہ ایک بیوی کی صورت میں شوہر کے لیے ہر چوتھی رات بیوی کے پاس گزارنا لازم ہوگا، لیکن بعد میں آپ نے اس سے رجوع فرما لیا۔ چنانچہ احناف کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس بارے میں کوئی متعین مدت مقرر نہیں، بلکہ شوہر پر بیوی کے حقوق اور اس کی اُنسیت کا مناسب لحاظ رکھنا واجب ہے۔

3: یہ معاملہ بنیادی طور پر میاں بیوی کی باہمی رضامندی، ضرورت اور حالات پر موقوف ہے۔ اگر بیوی اس طرزِ عمل پر راضی ہو اور اس کے حقوق متاثر نہ ہو رہے ہوں تو محض اکثر راتیں الگ بستر پر گزارنے کی وجہ سے شوہر گناہگار نہیں ہوگا۔ البتہ اگر بیوی کو اس سے تکلیف پہنچتی ہو یا اس کے شرعی و ازدواجی حقوق متاثر ہو رہے ہوں تو شوہر پر لازم ہے کہ اس کی رعایت کرے اور حسنِ معاشرت کے تقاضے پورے کرے۔ اس بارے میں اصل اعتبار زوجین کی باہمی رضامندی اور ان کے احوال، صحت و نشاط اور ضروریات کی رعایت کا ہے۔

4: فقہائے احناف کے نزدیک بیوی کے حقِ شب باشی کے لیے کوئی متعین کم از کم حد اور مدت مقرر نہیں۔ اس کا مدار زوجین کے احوال اور باہمی رضامندی پر ہے۔ البتہ شوہر پر واجب ہے کہ وہ حسنِ معاشرت کے تقاضے پورے کرے اور بیوی کے حقوق کو نظر انداز نہ کرے۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"ولو كان للرجل امرأة واحدة، وهو يقوم بالليل، ويصوم بالنهار أو يشتغل بصحبة الإماء، فتظلمت المرأة إلى القاضي، أمره القاضي أن يبيت معها أياما، ويفطر لها أحيانا، وكان أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - أولًا يجعل لها يوما وليلة، وللزوج ثلاثة أيام ولياليها، ثم رجع، فقال: يؤمر الزوج أن يراعيها، فيؤنسها بصحبته أياما وأحيانا من غير أن يكون في ذلك شيء مؤقت كذا في فتاوى قاضي خان. وهو الصحيح هكذا في البحر الرائق".

(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح، الباب الحادي عشر في القسم (1/ 341)، ط.دار الفكر، الطبعة الثانية:1310 هـ)

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

"ولو كان له امرأة واحدة فطالبته أن يبيت معها، وهو يشتغل عنها بالصلاة والصوم، فرفعته إلى القاضي، فإنه يؤمر أن يبيت معها، ويفطر لها وليس في ذلك حدّ ولا توقيت.

وفي الخجندي: كان أبو حنيفة أولا يقول يجعل لها يوما وليلة، وثلاثة أيام ولياليها يتفرغ للعبادة؛ لأنه يقدر أن يتزوج عليها ثلاثا أخر، فيكون لها من القسم يوم وليلة من الأربع.

وبهذا حكم كعب بن سور واستحسنه عمر - رضي الله عنه - فإنه روي: أن امرأة أتت إلى عمر - رضي الله عنه - فقالت: إن زوجي يصوم النهار، ويقوم الليل فقال عمر: نعم الزوج زوجك، فأعادت عليه كلامها مرارا، فقال لها: ما أحسن ثناءك على زوجك، فقال كعب بن سور: إنها تشكوه، قال: وكيف ذلك؟ قال: إنها تشكو إذ صام بالنهار، وقام بالليل هجر صحبتها، ولم يتفرغ لها، فعجب عمر من ذلك، وقال: اقض بينهما يا كعب، فحكم كعب لها بليل، ولزوجها بثلاث، فاستحسنه عمر، وولاه قضاء البصرة. كذا في النهاية إلا أن أبا حنيفة رجع عن هذا وقال: ليس بشيء؛ لأنه لو تزوج أربعا فطلبنه بالواجب يكون لكل واحدة ليلة من الأربع، فلو جعلنا هذا حقا لكل واحدة لكان لا يتفرغ لأفعاله فلم يوقت لهذا وقتا، وإنما يجعل لها ليلة من الأيام بقدر ما يحسن من ذلك".

(الجوهرة النيرة: كتاب النكاح، باب القسم (2/ 26)، ط.المطبعة الخيرية، الطبعة الأولى: 1322هـ)

فقظ واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں