بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کے دوسری جگہ شادی کرنے کی صورت میں حق حضانت کا حکم


سوال

 ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا ہے،  اس کی ایک تین سال کی بیٹی ہے اور تین بیٹے ہیں،  ان میں سے ایک کی عمر سات سال ،ایک کی آٹھ سال اور ایک کی نو سال ہے،  اس عورت نے سسر کے گھر والوں کی اجازت کے بغیر چپکے سے ایک آدمی سے شادی کر لی ہے، تو سسر کے گھر والوں نے ان کو گھر سے نکل جانے کو کہا،  اور سامان بھی ساتھ لے جانے کا کہا،  چناں چہ انہوں نے اپنا سارا سامان بیچ ڈالا، اور وہ یہاں سے چلی گئیں، اور ان کے تین بیٹے سسر کے گھر ہیں  اور تین سال کی جو بیٹی ہے وہ اس عورت کے پاس ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔ اس عورت کا سسر کے گھر والوں کے ذمہ کچھ دینا لازم ہے یا نہیں ؟

2۔ اس بیٹی کی پروش کا حق دار کون ہے؟ اور جو اولاد ابھی تک بالغ نہیں، لیکن ان کی عمریں سات ،آٹھ اور نو سال ہے، ان کی پرورش کون کرے گا؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں   مذکورہ خاتون کے مرحوم شوہر کی وراثت سے جو اس کا شرعی حصہ بنتا ہے، اگر وہ حصہ خاتون کو دے دیاہے،  اور اس کے علاوہ اور کوئی سامان اور حق  سسرال والوں کے ذمہ نہیں ہے تو ایسی صورت میں سسرال والوں پر کچھ لازم نہیں، اور اگر خاتون کو اس کے مرحوم شوہر کی وراثت سے شرعی حصہ نہیں دیا تو سسرال والوں پر لازم ہے کہ وہ خاتون کو اس کا شرعی حصہ دیں۔

2۔ اولاد کی پرورش کے معاملے میں شرعی اصول یہ ہے کہ : لڑکی کی عمر نو سال  ہونے تک اور لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک  ماں کو ان کی  پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم ماں کی زیرِ پرورش کے زمانے میں  اگر ماں نے کسی ایسے شخص سے شادی کرلی جو بچی کے حق میں اجنبی(غیر محرم) ہو تو اس سے ماں کی پرورش کاحق ساقط ہوجاتاہے،  اور پھر یہ حق بچی کی نانی، دادی، خالہ اور پھوپی کو بالترتیب حاصل ہوتاہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ خاتون کے دوسری جگہ شادی کرنے کی صورت میں ماں کا حقِ پرورش تین سال کی بیٹی کے حق میں ساقط ہوجائے گا، اور پھر یہ حق بچوں کی نانی کی موجودگی میں نانی کو حاصل ہوگا، اور اگر نانی موجود نہ ہو تو بچوں کی دادی   پرورش کی زیادہ حق دار ہوں گی، یہ اس وقت ہے کہ جب ماں نے ایسے شخص سے شادی کی ہو جو بچی کے حق میں نامحرم ہے۔

باقی جو  آٹھ اور نوسال کی عمر کے بچے ہیں توبچوں کے دادا کی موجودگی میں دادا ان کو اپنے پاس رکھ کر ان کی تعلیم و تربیت کریں گے، اور اگر دادا نہ ہوں بلکہ چچا تایا ہوں تو ان کو یہ حق حاصل ہوگا۔

شرح مختصر الطحاوی میں ہے:

"(وللمرأة من ميراث زوجها الربع إذا لم يكن له ولد، ولا ولد ابنٍ، فإن كان له ولد، أو ولد ابنٍ، وإن سفل: فلها الثمن).

وذلك لقول الله تعالى: {‌ولهن ‌الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم}".

(شرح مختصر الطحاوي للجصاص، ‌‌كتاب الفرائض، ‌‌باب قسمة المواريث، 4/ 83، الناشر: دار البشائر الإسلامية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق ...وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير."

(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر فی الحضانة، ج:1، ص:541، ط: دار الفكر)

وفيه أيضاً: 

"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين. وقال القدوري: حتى يأكل وحدَه، ويشرب وحدَه، ويستنجي وحدَه. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد رحمه الله تعالى: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح، هكذا في التبيين.....وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى، ‌يقدم ‌الأقرب ‌فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر، ج:1، ص:542، ط: دار الفكر)

کفایت المفتی میں ہے:

”ماں  جب غیر سے شادی کرے تو اس کا حق پرورش ختم ہو جاتا ہے:

سوال: زید نے انتقال کیا،  مال و اسباب و غیرہ چھوڑا،  دو بچے چھوڑے ایک لڑکا بعمر   ۷ سال، اور ایک لڑکی بعمر ۹ سال ،عورت نے بعد گزر جانے عدت کے غیر محرم سے نکاح کر لیا اور دونوں بچوں کے وارث تایا چچا زندہ ہیں، وہ دونوں بچوں کو لینا چاہتے ہیں ۔ 

جواب:  بچوں کی ماں نے جب کہ بچوں کے غیر محرم سے نکاح کر لیا ہے تو اس کا حقِ حضانت ساقط ہو گیا  اور لڑکے کی عمر سات سال کی ہو گئی تو وہ حد حضانت سے نکل گیا، لہذا لڑکا تو چچایا تایا کو پرورش اور نگرانی کے لیے مل جائے گا، رہی لڑکی جس کی عمر نو سال کی ہے، تو وہ بلوغ تک نانی کے پاس رہ سکتی ہے ، بشر ط یہ کہ نانی اس کی تعلیم و تربیت اچھی طرح کر سکے اور اس کے چال چلن کی طرف سے اعتماد ہو،ورنہ وہ بھی چچایا تایا کو مل جائے گی۔ فقط“

(کتاب الطلاق، ج:6، ص:428، ط: دار الاشاعت)

امداد الأحکام میں ہے:

”قال الشامي : وفي شرح المجمع : واذا استغنى الغلام عن الخدمة الاب او الوصى او الولى على أخذه لانه أقدر على تا ديبه وتعليمه اهـ وفي الخلاصة وغيرها : واذا استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبةاولى، يقدم الاقرب فالاقرب اھ ( ص ۱۰۵۴ ج ۲)

ان نصوص سے معلوم ہوا کہ صورتِ موجودہ میں جب نابالغ بچوں کی عمر۷ سال سے زیادہ ہے تو اب ماں کو ان کی پر درش کا حق نہیں، بلکہ ان بچوں کے ولی عصبہ کو یعنی میت کے بھتیجے عبد الغفو کو ان کی پروش کا حق ہے۔“

(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:2، حصہ: دوم، ص:876، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں