بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے سونے کی حالت میں تین طلاق دینے کا حکم، طلاق واقع ہونے کے لیے دو گواہوں کو شرط قرار دینا۔ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک کہنا


سوال

ایک بندے نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اس حال میں کہ بیوی سورہی تھی، وہ بندہ اہلحدیث علماء کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ طلاق دینے کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں، لہٰذا وہ بندہ ان علماء کے فتویٰ پرعمل کر رہا ہے، آپ حضرات شرعی راہنمائی فرمائیں کہ کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟

جواب

ایک ساتھ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ شرع ہے، ایسا کرنے والا سخت گناہ  گار ہوتاہے، جس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، نیز طلاق کے واقع ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا بھی شرط نہیں ہے، طلاق کے الفاظ تنہائی میں کہنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا  صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بندے نے اپنی بیوی کو تین طلاق والے الفاظ کہہ دیے ہیں تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین  طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور  نکاح ٹوٹ گیا ہے، دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع یا دونوں کا تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہنا ناجائز ہے۔عدت(مکمل تین ماہواریاں بشرطیکہ حمل نہ ہو) گزرنے کے بعد خاتون کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوں گی۔

اگر شوہر کسی جگہ سے کوئی ایسا فتویٰ حاصل بھی کرلے جس میں گواہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہونے کا حکم لگایا گیا ہو یا ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا گیا ہو تو ایسا  فتویٰ قرآن و حدیث، جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ کے متفقہ فتوی کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً ناقابلِ اعتبار ہوگا۔

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا."

(کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، ج:1، ص:349، ط: رشيدية)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

 "فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاعَ الثلاث معًا وإِن كانت معصية."

(ج:1، ص:529 ، ط: قدیمی)

بخاری شریف میں ہے:

"باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] ... حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»."

(کتاب الطلاق، باب من اجاز الطلاق الثلاث،ج:7، ص:42، 43 ،ط:دارطوق النجاة)

شرح النووی میں ہے:

"وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته: أنت طالق ثلاثاً، فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف: يقع الثلاث .... واحتج الجمهور بقوله تعالى: {ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لاتدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمراً} قالوا: معناه أن المطلق قد يحدث له ندم فلايمكنه تداركه لوقوع البينونة فلو كانت الثلاث لاتقع لم يقع طلاقه هذا إلا رجعياً فلايندم، واحتجوا أيضاً بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما أردت إلا واحدة، قال: الله ما أردت إلا واحدةً، فهذا دليل على أنه لو أراد الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى، وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثاً فجعلها واحدةً فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين، وإنما الصحيح منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك، وأما حديث بن عمر فالروايات الصحيحة التي ذكرها مسلم وغيره أنه طلقها واحدةً، وأما حديث بن عباس فاختلف العلماء في جوابه وتأويله، فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر إذا قال لها: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ينو تأكيداً ولا استئنافاً يحكم بوقوع طلقة لقلة إرادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو إرادة التأكيد فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه وكثر استعمال الناس بهذه الصيغة وغلب منهم إرادة الاستئناف بها حملت عند الإطلاق على الثلاث عملاً بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر، وقيل: المراد أن المعتاد في الزمن الأول كان طلقةً واحدةً وصار الناس في زمن عمر يوقعون الثلاث دفعةً فنفذه عمر فعلى هذا يكون إخباراً عن اختلاف عادة الناس لا عن تغير حكم في مسألة واحدة."

(کتاب الطلاق، باب الطلاق الثلاث،ج:10، ص:70، ط:دار احیاءالتراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث ... وعن هذا قلنا: لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف."

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق،ج:3، ص:233، ط:سعید )

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً."

(کتاب الطلاق، فصل في حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101444

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں