
عرض یہ ہے کہ ایک شخص کی شادی مئی 2001ء میں ہوئی، تقریباً پانچ یا چھ مہینے بعد بیوی روٹھ کر میکے چلی گئی، باوجود کوششوں کے واپس نہیں آئی، پھر مئی 2002ء میں لڑکے کی پیدائش ہوئی، جس کی اطلاع لڑکے والوں کو نہیں دی گئی اور نہ ہی بعد میں بچے سے ملنے دیا گیا۔
لڑائی جھگڑے سے بچنے کی وجہ سے لڑکے والوں نے رشتہ داروں کے ذریعے مصالحت کی کوشش کی، جو ناکام رہی، اور معاملات یوں ہی چلتے رہے۔ پھر لڑکی کے کچھ جاننے والوں نے 2006ء میں تیسرے فریق کے ذریعے یہ کوشش کی کہ شوہر خلع دے دے، لیکن بات نہ بننے پر لڑکی والوں نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کر دیا۔ شوہر نے بالکل اجازت نہ دی، پھر بھی عدالت نے 2006ء میں خلع کی ڈگری جاری کر دی۔
عدالتی معاملات اور پیچیدگی کی وجہ سے کیس چار پانچ سال چلتا رہا، اس عرصے میں عدالت کے حکم کے مطابق والد کچھ عرصے تک بچے کا مہینے کا خرچہ عدالت میں جمع کرواتا رہا، لیکن بچے سے ایک مرتبہ بھی ملاقات نہ کروائی گئی، بعد میں بھی باوجود کوششوں کے لڑکی والوں نے نہ اپنے جہیز کا سامان اٹھایا اور نہ ہی بچے کی ملاقات والد یا اس کے کسی رشتہ دار سے کروائی۔
مئی 2024ء میں جب مذکورہ شخص کے والد کا انتقال ہوا تو بچہ، جو اس وقت تقریباً 22 سال کا جوان ہو چکا تھا، اپنے دادا کی وفات پر بھی نہیں آیا۔ پھر اسی سال 2024ء میں جب مذکورہ شخص کی والدہ یعنی بچے کی دادی کا انتقال ہوا، تب بھی وہ بچہ نہیں آیا۔ خدا کی قدرت ! اس شخص کا اگست 2025ء میں انتقال ہوگیا۔ اس موقع پر بچہ صرف قبرستان آیا، اپنے باپ کا صرف چہرہ دیکھ کر بغیر تدفین کے واپس چلا گیا۔
وہ شخص زندگی بھر اپنے بچے کی شکل کو ترستا رہا اور اسی دکھ و غم کو برداشت نہ کرسکا، اس شخص کی زندگی اپنے بھائی کے ساتھ گزری؛ کھانا پینا اور رہائش سب بھائی کے ساتھ تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مرحوم کے ترکے کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ جبکہ مرحوم کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں،ایک بیوہ اور اکلوتا بیٹا ہے، جو باپ کی زندگی میں نہ تو باپ سے ملا اور نہ ہی دادا، دادی، چچا اور پھوپھیوں سے کوئی تعلق رکھا۔ لڑکی نے دوسری شادی نہیں کی اور نہ ہی لڑکے نے دوسری شادی کی، صرف خلع ہوا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی نے زندگی بھر شوہر کے ساتھ جو سخت رویہ اپنایا، بیٹے کو والد سے ملنے نہ دیا، اور بیٹے نے بھی بالغ ہونے کے بعد والد سے تعلق قائم نہ کیا، تو یہ طرزِ عمل اخلاقاً اور شرعاً درست نہ تھا، یہ رویہ ظلم اور قطعِ رحمی کے زمرے میں آتا ہے۔ دونوں کو چاہیے تھا کہ مرحوم کی زندگی ہی میں ان کے حقوق کا خیال رکھتے۔
اب جبکہ مرحوم اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، تو بیوہ اور بیٹے پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کریں، مرحوم کے حق میں دعا کریں، ایصالِ ثواب، صدقہ و خیرات اور نیک اعمال کا اہتمام کریں۔
چونکہ مرحوم کے شرعی ورثاء صرف بیوہ اور اکلوتے بیٹے پر مشتمل ہیں، اور مرحوم کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، تو ایسی صورت میں ترکہ انہی دو افراد کو ملے گا۔
تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تدفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ) آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے،پھران میں سے ایک حصہ مرحوم کی بیوہ کو ملے گا اور سات حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو ملیں گے۔ مرحوم کے بیٹے کی موجودگی میں مرحوم کے بہن بھائی شرعاً وارث نہیں بنتے۔
البتہ اگر بیوہ اور بیٹا اپنے شرعی حصے وصول کرنے کے بعد اپنی خوش دلی اور رضا مندی سے مرحوم کے بہن بھائیوں کو کچھ دینا چاہیں تو یہ ان کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"ذهب الفقهاء إلى أن نشوز المرأة على زوجها حرام، لما ورد في تعظيم حق الزوج على زوجته ووجوب طاعتها له، ومنه قول رسول الله صلى الله عليه وسلم لامرأة: أذات زوج أنت؟ قالت: نعم، قال: انظري أين أنت منه فإنه جنتك ونارك، ولما روى عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا صلت المرأة خمسها، وصامت شهرها، وحفظت فرجها، وأطاعت زوجها، قيل لها: ادخلي الجنة من أي أبواب الجنة شئت، ولقوله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها.
واستدل الفقهاء كذلك على حرمة نشوز المرأة على زوجها بما ورد من الوعيد الشديد لمن تنشز على زوجها، ومنه قول النبي صلى الله عليه وسلم: إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى تصبح، وعن أبي هريرة - رضي الله تعالى عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت أن تجيء لعنتها الملائكة حتى تصبح."
(حرف النون، نشوز، الحكم التكليفي للنشوز، ج: 40، ص: 285، ط: طبع الوزارة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100013
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن