
(1)میری بیوی نے مجھے میرا پلاٹ فروخت کرنے پر مجبور کیا، میں نے مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دےدی۔ میری بیوی نے اس پلاٹ کے کاغذات اپنے خالہ زاد بھائی کو دے دیے تاکہ وہ اسے فروخت کرے، اُس نے وہ پلاٹ فروخت کر دیا، میری بیوی نے اپنے خالہ زاد بھائی کو تاکید کی تھی کہ اس فروخت کی رقم مجھے (بیوی کو) دینا، میرے شوہر کو مت دینا۔وہ پلاٹ تقریباً بیس پچیس لاکھ میں بک گیا، اس گھر کی قیمت میں سے مجھے صرف دو لاکھ روپے دیے گئے، باقی رقم کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں، تو کیا اس طرح مجھے مجبور کرکے پلاٹ فروخت کروانا اور اس کی پوری قیمت مجھے نہ دینا میری بیوی کےلیے شرعاً جائز ہے؟
(2)جس گھر میں میں، میری بیوی اور بچے رہتے ہیں، اس کے بارے میں میری بیوی کہتی ہے کہ یہ میرا حقِ مہر ہے، تم یہ گھر چھوڑ دو اور چلے جاؤ، حالانکہ اس کا مہر سونے کی صورت میں مقرر ہوا تھا، جو میں نے اسی وقت نقد ادا کر دیا تھا، تو کیا بیوی کا یہ کہنا شرعاً درست ہے؟
1۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاسائل کی بیوی کا اپنے شوہر کو پلاٹ فروخت کرنے پر مجبور کیا تھا، لیکن سائل نے (مجبوری میں ہی سہی) اجازت دے دی تھی، تو اس پلاٹ کی خرید و فروخت درست ہوگئی، البتہ فروخت کے بعد اس پلاٹ کی مکمل قیمت سائل کو دینا لازم تھا، اب جبکہ سائل کو صرف دو لاکھ روپے دیے گئے ہیں، تو سائل کی بیوی پر بقیہ رقم اپنے شوہر (یعنی سائل) کو واپس کرنا واجب ہے۔
2۔اگر واقعۃً بیوی کا مہر سونے کی صورت میں مقرر کیا گیا تھا اور سائل نے اپنی بیوی کو نکاح کے وقت ہی نقد ادا کر دیا تھا، تو بیوی کا اپنے شوہر (یعنی سائل) کے اس گھر کے بارے میں یہ کہنا کہ "یہ میرا حقِ مہر ہے، آپ یہاں سے نکل جائیں" جائز نہیں ، مذکورہ گھر سائل ہی کی ملکیت شمار ہوگا، میاں بیوی کو چاہیے کہ آپس کی لڑئی جھگڑے صلح کے ذریعے ختم کرکے باہمی ہمدری اور محبت کےساتھ رہیں ۔
كنز العمال میں ہے:
"يا أيها الناس؛ تدرون في أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم وفي أي يوم أنتم؟ قالوا: يوم حرام وشهر حرام وبلد حرام، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، اسمعوا تعيشوا، ألا لا تظالموا ثلاثا، إنه لا يحل مال امرء مسلم إلا بطيب نفس منه۔۔۔ألا ومن كانت عنده أمانة فليؤدها إلى من ائتمنه عليها ألا هل بلغت ألا هل بلغت ليبلغ الشاهد الغائب فإنه رب مبلغ أسعد من سامع. "حم والبغوي والباوردي وابن مردويه عن أبي حرة الرقاشي عن عمه"۔
(کتاب الحج والعمرۃ، الباب الثالث: في العمرة وفضائلها وأحكامها وأحكام ذكرت في حجة الوداع، ج:5، ص:130،131، حدیث:12357، ط:مؤسسة الرسالة)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100087
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن