بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوی کو شوہر کی زندگی میں اپنا معاف کیا ہوا حصہ شوہر کے انتقال کے بعد ملے گا؟


سوال

ہمیں ایک مسئلہ میں راہ نمائی درکار ہے، مسئلہ یہ ہےکہ میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی کی کوئی اولاد نہیں تھی، جب کہ دوسری بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، والد صاحب کی زندگی میں پہلی بیوی نے یہ اقرار کیا تھا کہ ’’میں آپ کی وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں لوں گی‘‘، اس پر دوسری بیوی نے والد صاحب سے کہا کہ آپ ان سے یہ بات لکھوالیں، تو پہلی بیوی نے کہا ’’آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد میں آپ کے بچوں سے حصہ مانگوں گی، سب کچھ آپ کے بچوں کا ہی ہے، مجھے اس میں سے کچھ نہیں چاہیے‘‘،

اس پر دوسری بیوی نے کہا کہ ’’پہلی بیوی کے وفات کے بعد ان کے بھائی حصہ مانگیں گے‘‘، تو والد صاحب نے فرمایا کہ ’’ان کا کوئی حصہ نہیں، یہ حصہ میرے بچوں کا ہے، لیکن اگر انہوں نے پھر بھی مطالبہ کیا تو ان کو صرف بارانی زمین سے حصہ دینا، مارکیٹ اور اسلام آباد کے مکانوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں، یہ میرے بچوں کا ہے، اور میں نے اپنے بچوں کو یہ دے دیا ہے‘‘،

پھر والد صاحب نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا کہ وہ کاغذات تیار کریں تاکہ وہ اپنی جائیداد بچوں کے نام کروائیں، لیکن کاغذات مکمل ہونے سے پہلے ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کے تقریباً دو مہینے بعد دوسری بیوی، پہلی بیوی کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ ’’آپ نے اپنے شوہر کی زندگی میں جس بات کا اقرار کیا تھا کہ آپ وراثت میں سے حصہ نہیں لیں گی، بلکہ یہ تمام حصہ بچوں کا ہے، یہ بات آپ لکھ کر دے دیں یا انگوٹھا لگا دیں‘‘، تو پہلی بیوی نے کہا ’’میں لکھ کر نہیں دے سکتی، لیکن میرے مرنے کے بعد میرے شوہر کی دوسری بیوی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی یہ حصہ لے لیں یا کوئی اور لے لے‘‘،

(1) اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتِ حال کے بعد پہلی بیوی کا حصہ دوسری بیوی کی اولاد (دو بیٹے اور ایک بیٹی) کو ملے گا یا پہلی بیوی کے ورثاء (مثلاً بھائی وغیرہ) کو۔

(2) اگر شریعت میں میراث ملنے کا حکم ہو تو اس صورت میں پہلی بیوی کو تمام جائیداد (بارانی زمین،مکانات، مارکیٹس وغیرہ)میں حصہ دیا جائےگایا شوہر کے قول پر عمل ہوگا یعنی بارانی زمین میں سے حصہ دیا جائےگا۔

براہ کرم شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

(1)واضح رہے کہ میراث کا حصہ اضطراری حصہ ہے جو صرف معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں پہلی بیوی کا اپنے شوہر سے  یہ کہنا "میں آپ کی وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں لوں گی"اس کی وجہ سے میراث میں سے اس کا حصہ ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو شوہر کی میراث میں سے حصہ ملےگا،اب چوں کہ وہ انتقال کر چکی ہےتو اس کا حصہ اس کے ورثاء کو ملےگا، دوسری بیوی کی اولاد کو نہیں ۔

(2) پہلی بیوی کو شوہر کے تمام جائیداد(بارانی زمین،مکانات،اور مارکیٹس وغیرہ) میں سے حصہ ملےگا، اس کے انتقال کے بعد اب اس کے شرعی ورثاء کو ملےگا۔

 تکملۃ رد المحتار علی الدر المختارمیں ہے:

" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط."

(کتاب الدعوی،ج: 7،ص:505 ،  ط :سعید)

"الأشباہ والنظائر" لابن نجیم  میں ہے:

 "لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك."

(ص:309- ما یقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبله، ط:قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102211

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں