
جب سے میری شادی ہوئی ہے، شروع سے ہی مسائل چل رہے ہیں۔ میرے شوہر اور ان کے گھر والوں نے مجھ سے ایک بہت بڑا سچ چھپایا۔ مجھے شادی کے دو سال بعد پتا چلا کہ میرے شوہر نشہ کرتے ہیں۔ وہ خود کماتے بھی نہیں تھے، لیکن انہوں نے کبھی مجھے ایسا ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ہاں، البتہ مجھے پیسوں کے معاملے میں بہت تنگ کیا۔ جب بھی مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی، وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتے اور مجھے میکے بھیج دیتے۔ جب دل چاہتا، لینے آ جاتے، اور جب دل چاہتا، پھر میکے چھوڑ آتے۔ بچوں کا بھی حال نہیں پوچھتے اور نہ ہی خرچ دیتے۔
میں اس ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو کر اس نتیجے پر پہنچی کہ اب مجھے اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا۔ لیکن وہ مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں، بلکہ چاہتا ہے کہ میں خود خلع لے لوں تاکہ اسے اس کا سونا ملے۔ اب میرے دو بچے بھی ہیں، لیکن اس نے دارالافتاء میں جا کر یہ بات لکھوائی ہے کہ وہ بچوں کا خرچ دیتا رہا ہے، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ جب میں اس کے ساتھ تھی تو میرا اور بچوں کا خرچ اس کے ماں باپ اٹھا رہے تھے، اور اب میرے والدین ہی خرچ برداشت کر رہے ہیں۔ جب سے میں میکے آئی ہوں، اس کی طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں آیا۔
ہمارے درمیان جھگڑے اس وجہ سے بھی ہوتے رہے کہ وہ کام نہیں کرتا تھا، اور اس کی ماں اسے تنگ کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ اس قابل ہی نہ رہا کہ خود فیصلے لے سکے۔ وہ مجھے اپنی ماں کے کہنے پر میرے میکے چھوڑ گیا اور پھر مڑ کر دیکھا تک نہیں ، نہ مجھے، نہ بچوں کو، کیوں کہ اس کی ماں نے کہا تھا کہ اگر اسے (یعنی مجھے) واپس گھر لایا تو وہ (ماں) اسے اپنا دودھ معاف نہیں کرے گی۔
اب دو سال گزرنے کے بعد اس نے دوبارہ رابطہ کیا۔ ہماری بات چیت ہوئی، صلح ہوئی، اس نے کہا کہ بچوں کی خاطر ساتھ رہ لو۔ میں مان گئی، لیکن اس نے کہا کہ اسے اب بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی رہنا ہے، وہ الگ رہنے کی سکت نہیں رکھتا۔ میں نے کہا کہ اگر تم آج تک ذمہ دار نہیں بنے تو اب دوبارہ ساتھ رہنے کا کیا فائدہ؟ اس نے کہا کہ پرانی باتیں چھوڑو، نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔ میں نے بھی درگزر کیا۔
لیکن اس نے وہ باتیں، جو صرف میاں بیوی کے درمیان تھیں، جا کر ایک مفتی کو بتائیں تاکہ خود کو صحیح اور مجھے غلط ثابت کرے۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ "جس جھوٹ میں میں پھنسا ہوں، اگر میں اپنی بیوی کی عزت پر وار کروں گا، تو وہ خود ہی ہار مان لے گی۔" یہ بات میرے گھر والوں کو بھی پتا چل گئی، کیونکہ وہ باتیں صرف ہمارے درمیان تھیں، کسی تیسرے کو بتانا جائز نہ تھا۔
اسی لیے میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی، کیونکہ وہ میری عزت نہیں کر سکتا۔ لیکن میرے گھر والے نہ رشتہ ختم کر رہے ہیں اور نہ طلاق دلوارہے ہیں۔ بچوں کا خرچ وہ (شوہر) اٹھا نہیں سکتا، تو مجھے صرف بچوں کی خاطر قربانی کیوں دینی چاہیے؟ جبکہ وہ انسان جھوٹا بھی ہے، نشہ بھی کرتا ہے، اور ذمہ داری نبھانا بھی نہیں جانتا، بس والدین کی بات مانتا ہے، بیوی اور بچوں کی کوئی پروا نہیں۔
اب آپ بتائیں، میرا جو فیصلہ ہے، وہ درست ہے یا نہیں؟
میرا حق یعنی مہر بھی رکھا گیا تھا، لیکن اس نے شادی کے بعد ادا نہیں کیا۔ تو بعد میں اس معاملے کی کیا صورت ہوگی؟ مجھے اس بارے میں بھی بتائیں۔
واضح رہے کہ شرعاً شوہر کے ذمے بیوی اور بچوں کا نان و نفقہ لازم ہے، اور اس میں میاں بیوی دونوں کی حالت کا اعتبار ہوتا ہے۔ یعنی جب میاں بیوی دونوں مالدار ہوں تو شوہر پر مالداروں کے مطابق نان و نفقہ لازم ہوتا ہے، اور اگر دونوں تنگ دست ہوں تو شوہر پر تنگ دستوں کے مطابق نان و نفقہ واجب ہوتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر صلح کی خواہش رکھتا ہے اور بیوی و بچوں کے حقوق (یعنی نان و نفقہ وغیرہ) ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تو بیوی کو اس کی بات مان لینی چاہیے، اور جو کچھ ہو چکا ہے، اس کو درگزر کر دینا چاہیے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ ایک خوشحال زندگی نصیب فرمائیں گے۔
جہاں تک بیوی کی علیحدہ رہائش کے مطالبے کا تعلق ہے، تو شرعی حکم یہ ہے کہ بیوی کے لیے علیحدہ مکمل مکان کا مطالبہ درست نہیں، البتہ شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو ایک ایسا کمرہ مہیا کرے جس میں اسے مکمل اختیار حاصل ہو، اور کسی دوسرے فرد کو بیوی کی اجازت کے بغیر وہاں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ اس کمرے میں بیوی اپنی ضروریات کا سامان رکھ سکے۔ اسی طرح، الگ بیت الخلاء اور علیحدہ باورچی خانہ مہیا کرنا بھی بیوی کا حق ہے۔
جہاں تک مہر کا تعلق ہے، تو اس کی ادائیگی شوہر پر فرض ہے، اور طلاق یا علیحدگی کے بعد بھی مہر شوہر کے ذمے باقی رہتا ہے۔ البتہ اگر بیوی خلع کے بدلے مہر معاف کر دے تو اس صورت میں مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمے سے ساقط ہو جائے گی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
".أما النفقة فبحالهما.
(قوله أما النفقة) هي الأكل والشرب واللبس والمسكن (قوله فبحالهما) أي إن كان كل من الزوج والزوجة غنيين فالواجب نفقة الأغنياء، أو فقيرين فنفقة الفقراء، أو مختلفين فالوسط، وهذا هو المفتى به كما مر وقدمنا أن كلام المصنف والشارح محمول عليه فافهم."
(کتاب النکاح، باب القسم، ج:3، ص:206، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي البحر عن الخانية:يشترط أن لا يكون في الدار أحدمن أحماء الزوج يؤذيهاونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة.
(قوله ونقل المصنف عن الملتقط إلخ)...والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، 600/3، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى".
(کتاب النکاح، الباب السابع في المھر، الفصل الأول في بيان مقدار المهر وما يصلح مهرا وما لا يصلح، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الرابع فی نفقة الأولاد، ج:1، ص:560، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101387
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن