
اگر بیوی بلا کسی شرعی عذر ہمبستری سے متواتر انکار کرتی ہےاور سارے جتن کرنے کے باوجود نہیں مانتی اور مرد کے پاس صبر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو تو اس کا اجر آ خرت میں کیا ملے گا۔
واضح رہے کہ بیوی پر شوہر کی جنسی خواہش کی تکمیل لازم ہے، بلا عذرِ شرعی (جیسے ماہواری کے ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ ہو وغیرہ) بیوی کا شوہر کو جماع سے روکنا جائز نہیں ہے، احادیث مبارکہ میں ایسی عورت کے لیے سخت وعیدات آئی ہیں، اور شوہر کو بلا عذر طبعی وشرعی منع کرنے کی وجہ سے وہ عورت گناہ گار ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کو جائز طریقے سے جنسی تسکین پوری کرنے دے، شوہر کو قدرت نہ دینے پر بیوی گناہ گار ہوگی، لیکن اگر بیوی سائل کو جماع پر قدرت نہیں دے رہی اور سائل گناہوں سے بچتے ہوئے اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ رب العزت کے ہاں اس صبر پر اجر ملے گا، البتہ اس اجر کی مقدار احادیثِ مبارکہ میں نہیں ہے اور نہ ہی شریعت کے مقاصد میں سے ہے، بلکہ اجر اللہ رب العزت خود دیتا ہے اور اپنے شایانِ شان دیتا ہے۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن علي بن طلق قال: أتى أعرابي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، الرجل منا يكون في الفلاة فتكون منه الرويحة، ويكون في الماء قلة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا فسا أحدكم فليتوضأ، ولاتأتوا النساء في أعجازهن، فإن الله لايستحيي من الحق». وفي الباب عن عمر، وخزيمة بن ثابت، وابن عباس، وأبي هريرة.: «حديث علي بن طلق حديث حسن."
(باب ما جاء في كراهية إتيان النساء في أدبارهن، ج:3، ص:460، ط: مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرلے، اور تم لوگ بیویوں سے پیچھے کے راستے سے ہم بستری نہ کرو، پس بے شک اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"ولو أمرها أن تنقل من جبل أصفر إلى جبل أسود ومن جبل أسود إلى جبل أبيض كان ينبغي لها أن تفعله".
(مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ص:283، ج:2، ط:قدیمی)
ترجمہ:اگر اس کا شوہر اس کو یہ حکم دے کہ وہ زرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ پہاڑ سے پتھر اٹھاکر سفید پہاڑ پر لے جائے تو اس عورت کے لیے یہی لائق ہے کہ وہ اپنے شوہر کا یہ حکم بجا لائے۔
(از مظاہر حق، کتاب النکاح، ج:3، ص:373، ط:دارالاشاعت)
وفیہ ایضاً:
"وعن أبي هريرة قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أي النساء خير؟ قال: «التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره".
(مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج: 2، ص: 283، ط: قدیمی)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی بیوی بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے، اور جب شوہر اس کوئی حکم دے تو اس کو بجا لائے (بشرط یہ کہ وہ حکم خلافِ شرع نہ ہو) اور اپنی ذات اور اپنے مال میں اس کے خلاف کوئی ایسی بات نہ کرے جس کو وہ پسند نہ کرتا ہو۔
(از مظاہر حق، کتاب النکاح، ج:3، ص:375، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101082
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن