
1۔ایک عورت جس نے بچپن سے پاکیزہ اور پاک دامنی والی زندگی گزاری ہو،اوراس کی شادی ایک ایسےشوہرکے ساتھ ہوجائے جس کےاوصاف، ماحول، رہن سہن پہلےسےاس عورت کو معلوم نہ ہوں، تو وہ عورت اس شوہرکواپنے ہی جیساتصورکرکےیہ یقین رکھنا درست ہے کہ میراشوہرمیری طرح ہی پاک دامن اور پاکیزہ ہوگا۔
2۔اوریہی معاملہ اگربرعکس ہو توپھرکیاحکم ہے؟ یعنی ویساہی یقین رکھے؟
اللہ نے ایک مسلمان کو دوسرے کے متعلق اچھا گمان رکھنے کا حکم دیا ہے، اور بدگمانی سے منع فرمایا ہے، لہذا جب عورت نے اپنی دلی رضامندی سے نکاح کو قبول کرلیا تو اسے اپنے شوہر کے متعلق اچھا گمان ہی رکھنا چاہیے، منفی خیالات، بدگمانی، اور غیر واقعہ امور کے وساوس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، قرآن پاک میں اللہ تعالی کا واضح فرمان ہے کہ:
"الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ" (سورة النور)
ترجمہ: ”(اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ)گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں، اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں، یہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں، ان حضرات کے لیے (آخرت میں) مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔“ (بیان القرآن)
تفسیر معارف القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”اس آخری آیت میں اول تو عام ضابطہ یہ بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے، گندی اور بدکار عورتیں، بدکار مردوں کی طرف اور گندے بدکار مرد، گندی بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیا کرتے ہیں، اسی طرح پاک صاف عورتوں کی نیت پاک صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے اور پاک صاف مردوں کی رغبت پاک صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے اور ہر ایک اپنی اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہے اور قدرتاً اس کو وہی مل جاتا ہے، اس عام عادت کلیہ اور ضابطہ سے واضح ہوگیا کہ انبیاء علیہم السلام جو دنیا میں پاکی و صفائی ظاہری و باطنی میں مثالی شخصیت ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالی ان کو ازواج بھی ان کے مناسب عطا فرماتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء کے سردار ہیں ان کو ازواج مطہرات بھی اللہ تعالی نے پاکی اور صفائی ظاہری اور اخلاقی برتری میں آپ ہی کی مناسب شان عطا فرمائی ہیں اور صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان سب میں ممتاز ہیں، ان کے بارے میں شک و شبہ وہی کرسکتا ہے جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو، اور حضرت نوح و حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کے بارے میں جو قرآن کریم میں ان کا کافر ہونا مذکور ہے تو ان کے متعلق بھی یہ ثابت ہے کہ کافر ہونے کے باوجود فسق و فجور میں مبتلا نہیں تھیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا"ما بغت امرأة نبي قط" یعنی کسی نبی کی عورت (بیوی) نے کبھی زنا نہیں کیا (ذکر فی الدر المنثور) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نبی کی بیوی کافر ہوجائے اس کا تو امکان ہے، مگر بدکار فاحشہ ہوجائے یہ ممکن نہیں، کیوں کہ بدکار طبعی طور پر موجب نفرت عوام ہے، کفر طبعی طورپرنفرت کا موجب نہیں۔“
(سورۃ نور،ج: 6، ص: 384، ط: مکتبہ معارف القران ،کراچی)
لہذا خاتون نے نیکی اور پاک دامنی کی زندگی گزاری ہے تو اسے اپنے شوہر کے متعلق نیک گمان رکھنا چاہیےاور خاتون اس کے ساتھ خوش حال زندگی گزارے، اور ساتھ ہی نیکی،خیر اور بھلائی کے کاموں میں شوہر کی مددگار بنے، اگر کہیں کوئی کمی محسوس بھی ہو تو حسن تدبیر سے، ترغیب سے شوہر کو نیکی کی طرف لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وأيقظ امرأته فصلت فإن أبت نضح في وجهها الماء. رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت وأيقظت زوجها فصلى فإن أبى نضحت في وجهه الماء."
( مشکاۃ المصابیح، كتاب الصلاة، باب التحريض على قيام الليل، ج:1، ص:388، ط:المكتب الإسلامي )
ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ اُس مرد پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بھی جگائے اور وہ بھی نماز پڑھے۔ اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر ہلکے سے پانی کے چھینٹے مار دے۔ اور اللہ تعالیٰ اُس عورت پر بھی رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، پھر اپنے شوہر کو جگائے اور وہ بھی نماز پڑھے۔ اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر ہلکے سے پانی کے چھینٹے مار دے۔“
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100004
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن