
دو سوتیلی بہنیں، ایک کا نام زینب اور دوسری کا نام مریم ہے، زینب کا ایک بیٹا قاسم ہے، قاسم کی بیٹی کا نام فاطمہ ہے، زینب کی دوسری بہن مریم کے شوہر کا نام عبد الله ہے، عبداللہ قاسم کی بیٹی فاطمہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یعنی عبد اللہ اپنی پہلی بیوی کی زندگی میں( یعنی اس کے نکاح میں موجود ہوتے ہوئے) اپنی سالی کی پوتی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔
کیا مذکورہ نکاح درست ہوگا ؟
صورتِ مسئولہ میں عبداللہ کا قاسم کی بیٹی فاطمہ (جو کہ اس کی سالی پوتی ہے) سے نکاح درست نہیں ہے، نکاح کر لینے کی صورت میں نکاح واقع ہی نہیں ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها ويجوز بين امرأة وبنت زوجها فإن المرأة لو فرضت ذكرا حلت له تلك البنت بخلاف العكس، وكذا يجوز بين امرأة وجاريتها إذ عدم حل النكاح على ذلك الفرض ليس لقرابة أو رضاع، كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم."
(القسم الرابع المحرمات بالجمع، ج:1، ص:277، ط:دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى)أبدا لحديث مسلم (لا تنكح المرأة على عمتها) وهو مشهور يصلح مخصصا للكتاب."
(کتاب النکاح، فصل في المحرمات، 3/ 38، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101154
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن