بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی اگر شوہر کا سونااور نقد رقم چراکرلےجاۓ تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟


سوال

میری سابقہ بیوی نے میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر 1لاکھ کیش،50000روپے کےبونڈزاور کچھ زیورات لےکر چلی گئی ہے،اس نے تین بندوں کوبلایاتھا،جن کے ذریعہ یہ چیزیں چوری کرکے لےکرچلی گئی ہیں۔

اب سوال یہ ہےکہ:کیایہ چیزیں اس کے لیے جائز ہے،اس کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟

وضاحت:وہ ایک لاکھ روپے اور سونا سائل کا ذاتی تھا،50000کے بونڈز وہ سائل کی بیٹی کے تھے۔

سائل کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تو اس نے اپنے سامان کو بیگوں میں بند کرکے اس کے اندر پیسے،سونااور بونڈز چراکرلےگئی،اس کے ساتھ ایک بہن،بہنوئی اور ایک شخص تھا۔

جواب

 صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً وہ ایک لاکھ روپے اور سونا سائل کی ملکیت میں تھا اور 50000ہزار کے بونڈز سائل کی بیٹی کے تھے تو سائل کی بیوی کے لیے ان چیزوں کو سائل کی اجازت کے بغیر لے کر جاناشرعاً ناجائز  تھا،اگر یہ ثبوت موجود ہے کہ سابقہ بیوی  یہ چیزیں لے کر گئی ہے تو سائل کی  سابقہ بیوی پر لازم ہے کہ وہ چیزیں سائل کو واپس کردے،مذکورہ خاتون کے لیے سائل کی اجازت کے بغیر ان اشیاء  کو استعمال  کرناجائز نہیں ہے  ۔

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله السارق قال النووي: فيه جواز لعن غير المعين من العصاة ; لأنه لعن الجنس مطلقا قال تعالى: {ألا لعنة الله على الظالمين} [هود: 18] وأما المعين فلا يجوز لعنه قال الطيبي: لعل المراد من اللعن الإهانة والخذلان كأنه قيل لما استعمل أعز شيء عنده في أهون شيء وأحقره خذله الله، وأهانه حتى قطع (يسرق البيضة فتقطع) بالتأنيث، ويذكر (يده ويسرق الحبل فتقطع يده) قيل: المراد بيضة الحديد وحبل السفينة، وقيل: كان القطع في ابتداء الإسلام، ثم نسخ، وقيل: المراد الحقير فإن النصاب يشارك البيضة والحبل في الحقارة وقيل الحقير يؤدي بالاعتياد إلى القطع، ويفضي إليه، وقيل: المراد به التهديد، وقيل: يقطع سياسة والله تعالى أعلم (متفق عليه ورواه أحمد والنسائي وابن ماجه) ."

(کتاب الحدود، باب قطع السرقة، ج:6، ص: 2355، ط:دارالفكربيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703102121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں