
میرے شوہر کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، شوہر کے والدین ان سے پہلے انتقال کرگئے ہیں، شوہر کے کفن دفن کا خرچہ ایک داماد اور ایک رشتہ دار نے اپنی خوشی سے ا دا کیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ ورثاء میں ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟نیز کفن دفن کا خرچہ ہمیں دینا ہوگا یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مرحوم کےترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی (کفن دفن کا خرچہ جن لوگوں نے بخوشی ادا کیا اور واپس لینے کی شرط نہیں رکھی تو اب انھیں یہ خرچہ نہیں دیا جائے گا، اس کے علاوہ)اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہکل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 104 حصے کرکے، 13 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہرایک بیٹے کواور سات حصےہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
میت:مرحوم شوہر 104/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | ||||||||
| 13 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 | 7 | 7 |
باعتبار فیصد 12.5 فیصد بیوہ کو، 13.46فیصد ہرایک بیٹے فیصد کو اور 6.73ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"كفن الوارث الميت أو قضى دينه (من مال نفسه) فإنه يرجع ولا يكون متطوعا.
قال الرملي في حاشية الفصولين: ليستفاد منه أنه لو لم يجب عليهم كتكفين الزوجة إذا صرفه من ماله غير الزوج بلا إذنه أو إذن القاضي فهو متبرع كالأجنبي فيستثنى تكفينها."
(باب الوصي، فصل في شهادة الأوصياء، ج:6، ص:718، ط:سعید)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101967
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن