بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم / کفن دفن کا خرچہ اگر کوئی اور کردے تو رجوع کا حکم


سوال

میرے شوہر کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، شوہر کے والدین ان سے پہلے انتقال کرگئے ہیں، شوہر کے کفن دفن کا خرچہ ایک داماد اور ایک رشتہ دار نے اپنی خوشی سے ا دا کیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ   ورثاء میں ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟نیز کفن دفن کا خرچہ  ہمیں دینا ہوگا یا نہیں ؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم  کےترکہ کی تقسیم کا شرعی  طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی (کفن دفن کا خرچہ جن لوگوں نے بخوشی ادا کیا اور واپس لینے کی شرط نہیں رکھی تو اب انھیں یہ خرچہ نہیں دیا جائے گا، اس کے علاوہ)اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی ترکہ  کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہکل    ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 104 حصے کرکے،  13 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہرایک بیٹے کواور  سات حصےہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

میت:مرحوم شوہر 104/8

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
131414141477777

باعتبار فیصد 12.5 فیصد بیوہ کو،  13.46فیصد ہرایک بیٹے فیصد کو اور 6.73ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"كفن الوارث الميت ‌أو ‌قضى ‌دينه (من مال نفسه) فإنه يرجع ولا يكون متطوعا.

قال الرملي في حاشية الفصولين: ليستفاد منه أنه لو لم يجب عليهم كتكفين الزوجة إذا صرفه من ماله غير الزوج بلا إذنه أو إذن القاضي فهو متبرع كالأجنبي فيستثنى تكفينها."

 (باب الوصي، فصل في شهادة الأوصياء، ج:6، ص:718، ط:سعید)

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101967

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں