
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے،ورثاء میں :بیوہ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،والد صاحب کے والدین کا انتقال ان کی حیات میں ہوگیا تھا۔
والد صاحب مرحوم کی ملکیت میں ایک مکان ہے۔
وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کی میراث کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اسے کل ترکہ سے اداکرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کو 80 حصوں میں تقسیم کرکےدس حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور سات حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:8 /80
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 10 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے حساب سے12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو ،17.5فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور8.75 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102415
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن