
میرے پاس تقریبا سات تولہ سونا اور ڈیڑھ لاکھ نقد ہے، جس کے مطابق میں ایک صاحب نصاب عورت ہوں اور میں خود کماتی بھی ہوں تو میں اپنی زکاۃ خود ادا کرتی ہوں ، جب کہ میرے شوہر کے پاس کوئی بچت یا سونا یا چاندی نہیں ہے ،جس کا مطلب ہے کہ وہ صاحب نصاب نہیں ہیں اور وہ زکاۃ ادا نہیں کر سکتے اور میرے شوہر کے اوپر تقریباً تین لاکھ کا قرضہ ہے ، میرے شوہر کی آمدن ایک لاکھ بیس ہزار ہے اور ان کو اپنی والدہ کے گھر بھی پیسے دینے ہوتے ہیں اور ہمارے گھر کے بھی اخراجات دیکھنے ہوتے ہیں، لہذا ان کی کوئی بچت نہیں ہو پاتی تو کیا میں اپنی زکاۃ اپنے شوہر کو دے سکتی ہوں تاکہ ان کو قرضہ اتارنے میں آسانی ہو؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ اپنے شوہر کو ان کے مقروض ہونے کے باوجود اپنی زکاۃ کی رقم نہیں دے سکتی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ولا) إلى (من بينهما ولاد) ولو مملوكا لفقير (أو) بينهما (زوجية) ولو مبانة."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:346، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102369
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن