بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی اور بیوی کی بھتیجی کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے بیوی کی بھتیجی سے نکاح کیا ہے، اور یہ نکاح عدالت میں ہوا ہے، اس واقعے کو دو سال ہو چکے ہیں، کیا اس طرح نکاح کرنا جائز ہے؟

جواب

مرد ایک وقت میں بیوی اور اس کی بھتیجی کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا،پھوپھی اور بھتیجی کو  ایک ساتھ عقدِ نکاح میں جمع کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، آں حضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ اورعورت کو اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں  جمع نہیں  کیا جاسکتا۔اگر کسی شخص نے واقعۃً بیوی نکاح میں ہوتے ہوئے  اس کی بھتیجی سے نکاح کیا ہے تو وہ شخص حرام کا مرتکب ہوا ہے ، شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا، دونوں پر لازم ہے کہ وہ فورا علیحدہ ہوجائیں اور  جو گناہ ہوا ہے اس پر توبہ و استغفار کریں۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لايجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها»." (صحيح البخاري (7/ 12)

اور ایک روایت میں  ہے کہ  بھتیجی کی موجودگی میں اس کی پھوپھی سے نکاح نہ کرو، اور بھانجی کی موجودگی میں اس کی خالہ سے نکاح نہ کرو،  یعنی پھوپھی بھتیجی کی ساتھ او ر خالہ بھانجی کے ساتھ نکاح میں  جمع نہیں  کی جاسکتی۔

"عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لاتنكح العمة على بنت الأخ، ولا ابنة الأخت على الخالة»." (صحيح مسلم 2/ 1028)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لايجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع، هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكراً؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما، هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسباً أو رضاعاً، وخالتها كذلك ونحوها."

(كتاب النكاح، الباب الثالث، القسم الرابع، جلد:1، صفحه:277، طبع: دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں