
گزارش یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کے باعث بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، جس پر خاوند نے بیو ی کے بھائی کو واٹس ایپ میسج کرکے یہ کہا کہ”اب یہ (بیوی )میری طرف سے آزاد ہے،اس کی کسی اور کے ساتھ شادی کرواؤ۔“
کیا ان الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اورشوہر اپنی بیوی سے رجوع کرسکتاہے یانہیں؟ نیز یہ سارا معاملہ اس وقت ہواجب بیوی حاملہ تھی،اوراب بچے کی ولادت ہوچکی ہے۔
صورت مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی کے بھائی کو یہ کہنا کہ ”اب یہ (بیوی) میری طرف سے آزاد ہے،اس کی کسی اورکےساتھ شادی کرواؤ“یہ الفاظ صریح طلاق کے حکم میں ہیں ،جس سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے،رجوع کرنے کی گنجائش نہیں رہی ،تاہم نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جاسکتاہے،جس کے بعد شوہر کے پاس صرف دوطلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔
نیز جیساکہ سوال میں مذکورہے کہ طلاق کا یہ معاملہ حمل کی حالت میں واقع ہواہے،اوراب بچے کی پیدائش ہوچکی ہے،توایسی صورت میں عدت بھی ختم ہوچکی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية"
(کتاب الطلاق :باب الصریح،ج:3،ص:252،ط:سعید)
وفیه ايضاً:
"واعلم أن المعتدة لو حملت في عدتها ذكر الكرخي أن عدتها وضع الحمل ولم يفصل، والذي ذكره محمد أن هذا في عدة الطلاق"
(کتاب الطلاق :باب العدۃ ،ج:3،ص:511،ط:سعید )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها"
( کتاب الطلاق :فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:473،ط:دارالفکر)
المبسوط للسرخسي میں ہے :
"ولو تزوجها قبل التزوج، أو قبل إصابة الزوج الثاني، كانت عنده بما بقي من التطليقات"
(كتاب الطلاق:باب من الطلاق،ج:6،ص: 95،مطبعة السعادة - مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100941
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن