
جب ہم میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوتی ہے تو میری بیوی مجھے یہ طعنہ دیتی ہے کہ تمہاری ترقی نہیں ہورہی، تم وہیں کے وہیں ہو، وہیں کھڑے ہو یعنی سب سے پیچھے ہو یعنی اچھی جگہ ملازمت نہیں لگ رہی ،ہماری ایک بیٹی بھی ہے، حالاں کہ میں نان نفقہ بھی پورا ادا کرتا ہوں، ضرورت کی چیزوں میں سے جب بھی کوئی چیز بیوی منگوائے تو فوراً آجاتی ہے، جب اس طرح مجھے کہا جاتا ہے کہ تم بہت پیچھے ہو آگے نہیں بڑھ رہے ہو تو اس طعنے سے میرے آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں اور میں چپ ہوجاتا ہوں، میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟
صورتِ مسئولہ میں بیوی کا شوہرکویہ طعنے دینا کہ ’’تمہاری ترقی نہیں ہورہی، تم وہیں کے وہیں ہو، وہیں کھڑے ہو، تم سب سے پیچھےہو، اچھی جگہ ملازمت نہیں لگ رہی‘‘ وغیرہ وغیرہ ،باوجود اس کے کہ شوہر بیوی کےنان نفقہ اور دیگرضروریات کا خیال بھی رکھتا ہو تو بیوی کا ایسی ناشکری کے بو ل بول کر شوہر کا دل مجروح کرنا اور ناراض کرنا بلاشبہ جائز نہیں ہے، بیوی کو چاہیے کہ آئندہ کے لیے شوہر کو طعنے دے کر اسے ناراض کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرےاوراپنے شوہر کا موازنہ دوسرے لوگوں سے نہ کرے، شوہر کے حقوق کا خیا ل رکھے،شریعتِ مطہرہ میں شوہر کی نافرمانی کرنے والی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں، اور شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت کرنے والی عورت کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، شوہر کےحقوق کی اہمیت کو سمجھاتے ہوئے آپ ﷺ ارشاد فرمانے لگے کہ اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَيل لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (1) ٱلَّذِي جَمَعَ مَالا وَعَدَّدَهُۥ (2) يَحسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخلَدَهُۥ (3) كَلَّا لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلحُطَمَةِ (4) " (الہمزۃ)
ترجمہ:’’ہلاکت ہے ہر طعنے دینے والے، عیب چینی کرنے والے کے لیے، جس نے مال خوب سمیٹا اور گن گن کر رکھا، وہ سمجھتا ہوگا اس کا مال سدا اس کے ساتھ رہے گا، ہر گز نہیں! وہ ضرور جھونکا جائے گا روند ڈالنے والی آگ میں۔‘‘
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذيء."
(باب حفظ اللسان، الفصل الثاني، ج:3، ص:1362، ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ :’’حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔“
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». "رواه الترمذي
( كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:972، الرقم:3255، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ:’’ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔‘‘
(مظاہر حق، 366/3، ط: دارالاشاعت)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت». رواه أبو نعيم في الحلية."
( كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:971، الرقم:3254، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ: ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے (ادا اور قضا) روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کی تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔‘‘
(مظاہر حق، 366/3، ط: دارالاشاعت)
خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہرکو اپنے سے بالاتر سمجھے، اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے اور اس کے ہر جائز حکم کو خوش دلی سے بجا لانے کو اپنی سعادت سمجھے، اور شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو نعمت خدواندی سمجھے، اس کی قدر اور اس سے محبت کرے، اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو چشم پوشی سے کام لے، درگزر، صبروتحمل اور دانش مندی کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرے، اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144605102023
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن