
اگر شوہر کی بد اعمالی کی وجہ سے بیوی کی اس سے دلی محبت نہ ہو لیکن الله کی رضا کے لیے اس کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہےنکاح ایک عظیم اور مقدس رشتہ ہے، جو صرف دو افراد کے درمیان جسمانی یا قانونی تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کے درمیان محبت، دو ذہنوں کے درمیان ہم آہنگی، اور دو خاندانوں کے درمیان رحمت و برکت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف وقتی جذبات یا دنیاوی ضرورتوں پر قائم نہیں رہتا، بلکہ اس کی بنیاد صبر، وفاداری، حسنِ اخلاق، اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی پر ہے۔اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو لباس سے تعبیر کیا ہےیعنی ایک دوسرے کا تحفظ، زینت، اور سکون۔ اس رشتے کی مضبوطی میں ہی فرد، خاندان اور معاشرے کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ذیل میں میاں و بیوی دونوں کے درمیان مشترکہ حقوق ملاحظہ ہوں :
آپس میں حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا،ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آنا،محض خواہش نفسانی کی تکمیل مقصد نہ ہو، بلکہ رشتہ نکاح محبت والفت کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو، جس کے ذریعہ دونوں کو سکون وراحت میسر ہو،حدود اللہ کے قیام کو مقصد بنانا،نیک صالح اولاد کی خواہش ہونا اور تمام مباح کاموں(ہم بستری ، اس طرح گھر کی خدمت یا اس کے والدین کی خدمت) میں شوہر کے حکم کی اطاعت کرنا شوہر کے حقوق میں سے ہے،یہ تمام حقوق کو پورا کرنا عبادت شمار ہوتا ہے۔شوہر کے حقوق ادا کرنے والی بیوی کو بہت بلند مقام عطا کرنے کا وعد ہ کیا گیاہےاور ایسی عورت جنت کی حق دار ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"إذا صلت المرأة خَمْسَها، وصامَت شهرها، وحَفظت فرجها، وأطاعت زوجَها، قيل لها: ادخلي الجنةَ من أيّ أبواب الجنة شئت."
(مسند احمد،مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ، حدیث عبد الرحمان بن عوف، ج: 2، ص: 307، رقم الحدیث: 1661، ط: دار الحديث - القاهرة)۔
ترجمہ :"جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو۔"
لہذا سائلہ کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے لئے دعا کرے تا کہ بد عملی سے دور ہو جائے اور نیک صالح بن جائے اور شوہر کے بد اعمال ہونے کے باوجود اس کے حقوق پورا کرنا عبادت شمار ہوگا۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100328
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن