بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے والدین کا بیٹے سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا


سوال

میری امی کی کزن کو ان کے شوہر نے طلاق دی تھی، تو اس عورت سے میں نے شادی کر لی اور اس عورت کے تین بچے ہیں ایک بچہ اس نے لے لیا ہےاور دو میرے پاس ہیں، اب جب میں نے شادی کی تھی تو اس وقت بھی والدین راضی نہیں تھے اور اب والدین کہہ رہے ہیں کہ اس کو طلاق دو ،وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ طلاق دو البتہ نہ دینے کی صورت  میں ہو سکتا ہے وہ ناراض ہوں   کیونکہ اس عورت  کی عمر آپ سے دس سال بڑی ہے ،لیکن میں اس سےعورت سے خوش ہوں اور اس کا اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے اور میں والدین سے بھی الگ رہتا ہوں ،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ میں اس صورت میں  اپنی زوجہ کو طلاق دوں یا نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والدین اگر  کسی  شرعی  وجہ  کے بغیر محض عمر بڑی ہونے کی بنا پرسائل سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کررہے ہیں تو ایسی صورت میں ان کا بلاوجہ بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا شرعًا درست نہیں ہے، اور بلا وجہ مطالبہ کرنے کی صورت میں بیوی کو طلاق دینا بھی درست نہیں ہے، اور نہ ہی سائل پر والدین کی یہ بات ماننا لازم ہے، بلا وجہ طلاق دینے پر سائل خود بھی گناہ گار ہوگا اور اس کے والدین بھی، لہٰذا ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ اپنے والدین کو ادب و احترام سے سمجھائےاور والدین کو راضی کر لے، اگر یہ کام خود انجام نہ دے سکے تو خاندان کے دیگر بڑے حضرات کے ذریعے اس کام کو انجام دے، لہٰذا  حتی الامکان انتہائی سخت مجبوری کے بغیر طلاق دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"عن معاذ قال: «أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات، قال: " لاتشرك بالله شيئًا، وإن قتلت وحرقت، ولاتعقن والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك.

 (ولاتعقن والديك) أي تخالفنهما، أو أحدهما فيما لم يكن معصية إذ لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ( «وإن أمراك أن تخرج من أهلك» ) أي: امرأتك أو جاريتك، أو عبدك بالطلاق أو البيع أو العتق أو غيرها (ومالك) : بالتصرف في مرضاتهما. قال ابن حجر: شرط للمبالغة باعتبار الأكمل أيضًا أي: لاتخالف واحدًا منهما، وإن غلا في شيء أمرك به، وإن كان فراق زوجة أو هبة مال، أما باعتبار أصل الجواز فلايلزمه طلاق زوجة أمراه بفراقها، وإن تأذيا ببقائها إيذاءً شديدًا؛ لأنه قد يحصل له ضرر بها، فلايكلفه لأجلهما؛ إذ من شأن شفقتهما أنهما لو تحققا ذلك لم يأمراه به فإلزامهما له مع ذلك حمق منهما، ولايلتفت إليه، وكذلك إخراج ماله".

(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، الفصل الثالث، ج:1، ص:132، رقم الحدیث:61، ط:دار الفكر بيروت)

’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں ہے:

’’والدین کے ناحق طلاق کے حکم کو ماننا جائز نہیں!

سوال: والدین اگر بیٹے سے کہیں کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور بیٹے کی نظر میں اس کی بیوی صحیح ہے، حق پر ہے، طلاق دینا اس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے، تو اس صورت میں بیٹے کو کیا کرنا  چاہیے؟ کیوں کہ ایک حدیثِ پاک ہے جس کا قریب یہ مفہوم ہے کہ ”والدین کی نافرمانی نہ کرو، گو وہ تمہیں بیوی کو طلاق دینے کو بھی کہیں“ تو  اس صورتِ حال میں بیٹے کے  لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب: حدیثِ پاک کا منشا یہ  ہے کہ بیٹے کو والدین کی اطاعت و فرماں برداری میں سخت سے سخت آزمائش کے  لیے بھی تیار رہنا چاہیے، حتیٰ کہ بیوی بچوں سے جدا ہونے اور گھر بار چھوڑنے کے لیے بھی۔ اس کے  ساتھ ماں باپ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بے انصافی اور بے جا ضد سے کام نہ لیں۔ اگر والدین اپنی اس ذمہ داری کو محسوس نہ کریں اور صریح ظلم پر اُتر آئیں تو ان کی اطاعت واجب نہ ہوگی، بلکہ جائز بھی نہ ہوگی۔ آپ کے سوال کی یہی صورت ہے اور حدیثِ پاک اس صورت سے متعلق نہیں۔

          خلاصہ یہ ہے کہ اگر والدین حق پر ہوں تو والدین کی اطاعت واجب ہے، اور اگر بیوی حق پر ہو تو والدین کی اطاعت ظلم ہے۔ اور اسلام جس طرح والدین کی نافرمانی کو برداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح ان کے حکم سے کسی پر ظلم کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔‘‘

(تنسیخِ نکاح، ج:6، ص:682، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں