بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہرکوسونا ہبہ کرنے کے بعد واپسی کا مطالبہ کرنا


سوال

آج سےتقریباً سات سال قبل میری شادی ہوگئی تھی۔ میری تین بچےہیں۔ جس وقت میرانکاح ہواتھا اس وقت میری بیوی کاحق مہرپانچ ہزارروپےمقررکیاگیاتھا، جو اسی وقت مجھ سےوصول کرلیاگیاتھا۔ ہمارےیہاں کاعرف ہےکہ جب منگنی ہوجاتی ہےتوشوہر بیوی کوایک یادو تولہ سوناوغیرہ دیتاہے، جن کابیوی والوں کی جانب سےمطالبہ ہوتاہے، اگرچہ عقدِنکاح کےوقت مہرمیں سونےکاذکرنہیں کیاجاتا، بلکہ عقدِنکاح کےوقت تھوڑی سی نقدی بطورِمہرمقررہوتی ہے۔ چنانچہ اس عرف کےمطابق میں نےمنگنی کےبعد اپنی بیوی کودوتولہ سونا دیاجو اس وقت تقریباً ایک تولہ بیالیس ہزارروپےکاتھا۔

رخصتی کےبعد میرے مالی حالات کچھ خراب ہوگئے تومیری بیوی نےمجھےوہ دو تولہ سونادےدیا، میں نےیہ کہہ کرلینےسےمنع کردیاکہ پھرمجھ سےاس کاانتظام نہیں ہوسکےگا، لیکن بیوی نےکہاکہ آپ یہ لےلواورمیں آپ سےاس کامطالبہ پھرنہیں کرتی، میں نےتمہیں یہ بخش دیا، چنانچہ میں نےوہ سونافروخت کرکےپیسوں سےاپنی ضروریات پوری کیں۔

اب جب کہ میں نےبیوی کوطلاق دی ہےتو میراسسر  اُس سونےکی  واپسی کامطالبہ کررہاہے۔

اب سوال یہ ہےکہ کیاوہ دوتولہ سونابیوی کو لوٹاناشرعاً مجھ پر لازم ہےیانہیں؟ اگرلازم ہےتوکیااس وقت کی قیمت کےاعتبارسےدو تولےسونےکےچوراسی ہزارروپےلوٹانےلازم ہےیاموجودہ قیمت کےاعتبارسے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعتاً بیوی نےشوہر کووہ سونایہ کہہ کردیاتھا کہ" یہ لےلو، میں آپ سےاس کامطالبہ پھرنہیں کرتی، اور میں نےتمہیں یہ بخش دیاہے"تواس صورت میں وہ سوناشوہر کی ملکیت میں آگیا تھا، اب بیوی یااس کےخاندان والوں کا شرعاً شوہرسےاس سونےیااس کی قیمت کی واپسی کامطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔

الدرالمختارمع اتنویرالابصارمیں ہےمیں ہے:

" (هي تمليك العين مجانا، وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك و)شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.(وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ...(وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح)"

(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 688،687،  ط: ایچ ایم سعید)

وفيه ايضا:

"(ويمنع الرجوع فيها) حروف (دمع خزقه) يعني الموانع السبعة الآتية...(والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا)كعكسه."

(باب الرجوع في الهبة ، ج: 5، ص: 699، 704، ط: ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں