بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بائیو میٹرک مشین میں حاضری بھول جانے پر غیر حاضر شمار کرنا


سوال

 میں ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں جہاں حاضری کا نظام بائیومیٹرک مشین کے ذریعے ہے۔ ادارے کا ضابطہ یہ ہے کہ ملازم کو صبح آتے وقت اور شام جاتے وقت دونوں مرتبہ بائیومیٹرک لگانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں تین صورتیں پیش آتی ہیں:

پہلی صورت: ملازم صبح آتے وقت اور شام جاتے وقت دونوں مرتبہ بائیومیٹرک لگانا بھول گیا، حالانکہ وہ سارا دن ادارے میں موجود رہا اور اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔

دوسری صورت: ملازم صبح آتے وقت بائیومیٹرک لگانا بھول گیا، البتہ شام جاتے وقت اس نے بائیومیٹرک لگا لی۔ لیکن ادارہ اسے بھی غیر حاضر شمار کرتا ہے۔

تیسری صورت: ملازم نے صبح آتے وقت بائیومیٹرک لگا لی، مگر شام جاتے وقت بھول گیا۔ ادارہ اسے بھی غیر حاضر شمار کرتا ہے۔

ان تینوں صورتوں میں ادارے کا ضابطہ یہ ہے کہ چاہے ملازم سارا دن حاضر رہا ہو، صرف بائیومیٹرک نہ لگانے کی وجہ سے اسے غیر حاضر قرار دیا جاتا ہے اور اس کی اس دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر ملازم کی حاضری کے گواہ موجود ہوں، یا وہ قسم کھانے کو تیار ہو کہ وہ واقعی حاضر تھا، تو ادارہ یہ گواہی اور قسم بھی قبول کرنے پر تیار نہیں۔

سوال: (1)کیا ادارے کا یہ ضابطہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے درست ہے کہ محض بائیومیٹرک نہ لگانے کی وجہ سے ایک ایسے ملازم کو غیر حاضر قرار دیا جائے جو سارا دن کام کرتا رہا ہو؟

(2) کیا ادارے کے لیے ایسے ملازم کی تنخواہ کاٹنا جائز ہے جبکہ اس نے اپنی خدمات پوری ادا کیں؟

(3) گواہوں اور قسم کو رد کر کے صرف مشینی ریکارڈ پر اعتماد کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ امید ہے کہ حضرات مفتیانِ کرام اس مسئلے میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں گے۔

جواب

انسان سے بھول ہو سکتی ہے، بعض اوقات بھول جانے میں خود انسان کی لاپراوہی اور کوتاہی شامل ہوتی ہے، لیکن  کسی قسم کی لاپرواہی کے بغیر بھی انسان سے بھول ہوجانا ممکن ہے۔ 

لہذا ادارے کی ذمہ داری ہے کہ اپنا ضابطہ بناتے وقت اس امر کی رعایت کرے کہ ملازمین سے بھول ہوسکتی ہے اور وہ اپنی حاضری کو بائیو میٹرک مشین میں درج کرنا بھول سکتے ہیں، بھول ہوجانے کی صورت میں ملازم کی حاضری ثابت کرنے کا کوئی طریقہ طے کرنا چاہیے،   یہ ضابطہ بنالینا کہ اگر ملازم نے بائیو میٹرک مشین میں حاضری نہیں لگائی خواہ بھول کر ہی ہو تو اسے غیر حاضر تصور کر کے اس کی تنخواہ کاٹی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کے ثبوت کو ناقابلِ قبول قرار دیا جائے گا، شرعی اصولوں کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عرفی قوانین اور ملازمین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جب کوئی ملازم اپنے مقررہ وقت میں حاضر تھا اور اس نے اپنی خدمات پوری کیں لیکن حاضری کا اندراج بھول گیا تو ادارے کے لیے اس کو غیر حاضر شمار کرے کے اس کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ہے۔

البتہ ادارہ یہ ضابطہ بنا سکتا ہے کہ اگر کوئی ملازم بار بار (مثلاً ایک ماہ میں تین بار) اپنی حاضری درج کرنا بھول جائے تو ادارہ اسے بونس، اضافی الاؤنس یا تنخواہ میں اضافہ سے محروم کر نے کا مجاز ہوگا خواہ اس کے پاس اپنی حاضری کا ثبوت موجود ہو۔

صحیح بخاری میں ہے:

"2270 -...عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره".

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :تین قسم کے لوگوں کے خلاف قیامت کے دن میں خود مقدمہ لڑوں گا،  ایک وہ شخص جس نے میرا واسطہ دے کر عہد کیا پھر بے وفائی کی،  دوسرے وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی، تیسرے وہ شخص جس نے کسی مزدور کو کام پر لگایا اس سے کام پورا لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔

(‌‌‌‌باب في الإجارة، باب إثم من منع أجر الأجير، 3/ 90 ، ط : المطبعة الكبرى الأميرية)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"2443 -...عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه" 

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کی اجرت ادا کر دو۔

(‌‌الرهون، باب أجر الأجراء، 3/ 511 ، ط: دار الرسالة العالمية)

الدر المختار میں ہے:

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة... وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل".

وفي الرد:

"(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى... 

(قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة".

(‌‌كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، 6/ 69، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں