بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

بیماری میں بیٹے یا بھائی سے زیر ناف بال صاف کروانا


سوال

بیماری  کی حالت میں بیٹا یا بھائی سے زیر ناف کے بالوں کو صاف کروانا؟

جواب

اگر کوئی آدمی  اس قدر بیمار ہو  کہ بیماری کی وجہ سے اپنے زیر ناف بال بھی خود سے صاف نہ کرسکتا ہو اور بیوی بھی زندہ نہ ہو   اور بالوں کے بڑے ہونے کی وجہ سے اذیت ہو تو  مجبوراً  بھائی یا بیٹا ہاتھوں پر  دستانے  (میڈیکل گلوز وغیرہ )  چڑھاکر (جس سے اعضاء کی جسامت حتی الامکان محسوس نہ ہو) شرم گاہ پر نظر ڈالے بغیر کسی کریم وغیرہ سے ان کے زیر ناف بال صاف کرسکتے ہیں،  شرم گاہ کی طرف دیکھنے کی اجازت پھر بھی نہیں ہوگی۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فِي جَامِعِ الْجَوَامِعِ: حَلْقُ عَانَتِهِ بِيَدِهِ وَحَلْقُ الْحَجَّامِ جَائِزٌ إنْ غَضَّ بَصَرَهُ، كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة".(5 / 358،رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں