
میرے بیٹے کا نام ”محمد بن عبد السلام“ ہے۔ وہ بہت بیمار رہتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ اس کا نام بدل دو۔ ہمارے گھر کا ماحول اتنا اسلامی نہیں ہے۔ کیا میں یہ نام بدل دوں؟ اور آپ اس کے لیے کوئی نام بھی تجویز کر دیں۔
نام کا بچے کی صحت پر اثر انداز ہونے یا اس کے بیمار ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور اس طرح کا عقیدہ رکھنا بھی شرعاً درست نہیں ہے۔
نیز ”محمد بن عبد السلام“ نام بہترین اور مبارک ناموں میں سے ہے، کیوں کہ ”محمد“ خود اللہ کے محبوب اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے اور آپ صلی الله عليہ وسلم نے اپنی امت کو بھی ”محمد“نام رکھنے کی ترغیب دی ہے، چناں چہ فرمایا كہ تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے(یعنی کوئی نقصان نہیں ) اس بات میں کہ اس کے گھر میں ایک، دو یا تین ”محمد“ (نام والے) ہوں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ”میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو۔“
لہٰذا اس نام کو تبدیل کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ بچے کا باقاعدہ علاج معالجہ کروایا جائے۔ تاہم اگر دل کے اطمینان کے لیے آپ یہ نام بدلنا چاہیں، تو بدل کر ”عبد اللہ، عبد الرحمٰن“ یا اس جیسے نام رکھ سکتے ہیں؛ شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
فیض القدیر میں ہے:
"(ما ضر أحدكم لو كان في بيته محمد ومحمدان وثلاثة) فيه ندب التسمي به قال مالك: ما كان في أهل بيت اسم محمد إلا كثرت بركته وروى الحافظ ابن طاهر السلفي من حديث حميد الطويل عن أنس مرفوعا يوقف عبدان بين يدي الله عز وجل فيقول الله لهما ادخلا الجنة فإني آليت على نفسي أن لا يدخل النار من اسمه محمد ولا أحمد."
(حرف الميم، ج: 5، ص: 453، ط: المکتبة التجاریة الکبری مصر)
حدیث شریف میں ہے:
"«سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي»."
(صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب ما ذكر في الأسواق، رقم الحدیث:2120، ج:3، ص:66، ط:دار طوق النجاة بیروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"«وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة وجاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث، وكان لعمر رضي الله عنه بنت تسمى عاصية فسماها جميلة»."
(كتاب الحظر والإباحة، فروعات، ج:6، ص:418، ط:ایج ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101887
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن