بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے چھاتی سے پانی آنے کی وجہ سے نماز اور طواف کا حکم


سوال

ایک عورت چھاتی کی بیمار ہے،اس کے چھاتی سے بیماری کی وجہ سے پانی نکلتا رہتا ہے،اس کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا ہے،کبھی ایک گھنٹہ بعد ،کبھی دو گھنٹہ بعد وہ نکلتا ہے کبھی دوران نماز،یعنی وہ بے اختیار نکلتا ہے اور کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ پورا دن بھی نہیں نکلتا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس عورت کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟اگر دوران نماز یہ پانی نکل آیا تو کیا نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟

اس حالت میں وہ حج کرسکتی ہے؟اس حالت میں اگر طواف کیا تو کیا دم لازم ہوگا یا نہیں؟

2:ایک آدمی میں گیس کی بیماری ہے وضو باقی نہیں رہتا تو اس کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیماری کی وجہ سے چھاتی سے نکلنے والا پانی ناقض وضو ہے ،لہذا پانی اگر نماز کے دوران نکل آیا تو نماز بھی فاسد ہوجائے گی،اس حالت میں پڑھی جانے والی نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔

حج کے لیے طہارت لازم نہیں ہے،لہذا اس حالت میں حج کیا جاسکتا ہے،البتہ طواف کے لیے طہارت لازم ہے لہذااگر طواف کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو اسی جگہ طواف کا سلسلہ روک دینا لازم ہے اور وضو کر کے وہاں سے طواف کی تکمیل کی جاسکتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ شروع سے طواف دوبارہ کرے۔بغیر وضو اگر طواف کیا تو اعادہ لازم ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو دم لازم ہے۔

2:اگر کسی کو  ریح خارج ہونے کی ایسی بیماری ہو کہ کسی ایک  فرض نماز کے مکمل وقت میں، باوضو ہوکر فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر نہ گزرے ،  یعنی درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ وضو کر کے   مکمل پاکی میں ایک وقت کی فرض نماز ادا کی جاسکے  تو وہ  شرعاً معذور کہلائے گا۔ کسی ایک نماز کا مکمل وقت اس طرح گزر گیا تو یہ شخص شرعی معذور بن جائے گا، اس کے بعد ہر نماز کے مکمل وقت میں کم از کم ایک مرتبہ بھی یہ عذر (ریح کا خارج ہونا) پایا گیا تو وہ شرعی معذور رہے گا، اور اگر کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر گزر گیا تو وہ شرعی معذور نہیں رہے گا، بلکہ دوبارہ شرعی معذور ہونے میں وہی تفصیل ہوگی جو اوپر بیان ہوئی۔

معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلیا کرے اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہے فرائض اور نوافل ادا کرلے اور  قرآنِ کریم کی تلاوت  کرے، (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنی بار بھی ریح خارج ہو وہ باوضو ہی سمجھا جائے گا بشرطیکہ کوئی اور سبب وضو کوتوڑنے کانہ پایا جائے، مثلاً: پیشاب وغیرہ) یہاں تک کہ وقت ختم ہوجائے، یعنی جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا تو اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا اور پھر اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔

الدر المختاروحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(كما) لاينقض (لو خرج من أذنه) و نحوها كعينه و ثديه (قيح) و نحوه كصديد وماء سرة وعين (لا بوجع وإن) خرج (به) أي بوجع (نقض)؛ لانه دليل الجرح، فدمع من بعينه رمد أو عمش ناقض، فإن استمر صار ذا عذر."

(قوله: لا بوجع) تقييد لعدم النقض بخروج ذلك، وعدم النقض هو ما مشى عليه الدرر والجوهرة والزيلعي معزيا للحلواني.

قال في البحر: وفيه نظر، بل الظاهر إذا كان الخارج قيحا أو صديدا لنقض، سواء كان مع وجع أو بدونه لأنهما لا يخرجان إلا عن علة، نعم هذا التفصيل حسن فيما إذا كان الخارج ماء ليس غير. اهـ. وأقره في الشرنبلالية، وأيده بعبارة الفتح الجرح والنفطة وماء الثدي والسرة والأذن إذا كان لعلة سواء على الأصح اهـ فالضمير في كان للماء فقط فهو مؤيد لكلام البحر. وفيه إشارة إلى أن الوجع غير قيد بل وجود العلة كاف، وما بحثه في البحر مأخوذ من الحلية، واعترضه في النهر بقوله لم لا يجوز أن يكون القيح الخارج من الأذن عن جرح برئ، وعلامته عدم التألم فالحصر ممنوع اهـ: أي الحصر بقوله لا يخرجان إلا عن علة. وأنت خبير بأن الخروج دليل العلة ولو بلا ألم، وإنما الألم شرط للماء فقط، فإنه لايعلم كون الماء الخارج من الأذن أو العين أو نحوها دما متغيرا إلا بالعلة والألم دليلها بخلاف نحو الدم والقيح.

ولذا أطلقوا في الخارج من غير السبيلين كالدم والقيح والصديد أنه ينقض الوضوء و لم يشترطوا سوى التجاوز إلى موضع يلحقه حكم التطهير، و لم يقيدوه في المتون و لا في الشروح بالألم ولا بالعلة، فالتقييد بذلك في الخارج من الأذن مشكل لمخالفته لإطلاقهم."

( كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج1،ص147، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"ولو خرج منه أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى.

(قوله بنى) أي على ما كان طافه، ولا يلزمه الاستقبال فتح. قلت: ظاهره أنه لو استقبل لا شيء عليه فلا يلزمه إتمام الأول لأن هذا الاستقبال للإكمال بالموالاة بين الأشواط."

(‌‌كتاب الحج،سنن وآداب الحج،فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج2، ص497، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707102447

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں