
اگر کسی پر غسل واجب ہوجائے اور ڈاکٹر نے طبیعت کی خرابی کی وجہ غسل کرنےسے منع کیا ہو تو نماز کے لیےکیسے پاک ہو؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر مثلا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو یعنی پانی استعمال کرنے کی صورت میں کسی عضو کے تلف (ضائع )ہونے یا بیماری کی زیادتی کا قوی اندیشہ ہو،جس کے سبب کسی ماہر دین دار ڈاکٹر نے نہانے سے منع کیا ہو ، تو ایسی صورت میں متبادل کے طور پر تیمم کرنے کی اجازت ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بیمار شخص کو کسی ماہر ڈاکٹر دین دار نے طبیعت کی خرابی کی وجہ سے نقصان سے بچنے کے لیے غسل سے منع کیا ہو، بیماری کے ٹھیک نہ ہونے تک بیمار شخص کے لیے غسل فرض کی جگہ تیمم کرنے کی اجازت ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے:
"يجوز التيمم للمرض وأطلقه، وهو مقيد بما ذكره في الكافي من قوله بأن يخاف اشتداد مرضه لو استعمل الماء فعلم أن اليسير منه لا يبيح التيمم، وهو قول جمهور العلماء إلا ما حكاه النووي عن بعض المالكية، وهو مردود بأنه رخصة أبيحت للضرورة ودفع الحرج، وهو إنما يتحقق عند خوف الاشتداد والامتداد ولا فرق عندنا بين أن يشتد بالتحرك كالمبطون أو بالاستعمال كالجدري أو كأن لا يجد من يوضئه ولا يقدر بنفسه اتفاقا."
(كتاب الطهارة، باب التيمم، ج: 1، ص: 147، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(من عجز) مبتدأ خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعده) ولو مقيماً في المصر (ميلاً) أربعة آلاف ذراع، (أو لمرض) يشتد أو يمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم ولو بتحرك ... (أو برد) يهلك الجنب أو يمرضه۔۔۔۔۔۔(قوله: يهلك الجنب أو يمرضه) قيد بالجنب؛ لأن المحدث لايجوز له التيمم للبرد في الصحيح، خلافاً لبعض المشايخ، كما في الخانية والخلاصة وغيرهما. وفي المصفى أنه بالإجماع على الأصح، قال في الفتح وكأنه لعدم تحقيق ذلك في الوضوء عادة. اهـ. واستشكله الرملي بما صححه في الفتح وغيره في مسألة المسح على الخف من أنه لو خاف سقوط رجله من البرد بعد مضي مدته يجوز له التيمم. قال: وليس هذا إلا تيمم المحدث لخوفه على عضوه، فيتجه ما في الأسرار من اختيار قول بعض المشايخ.أقول: المختار في مسألة الخف هو المسح لا التيمم كما سيأتي في محله - إن شاء الله تعالى - نعم مفاد التعليل بعدم تحقيق الضرر في الوضوء عادة أنه لو تحقق جاز فيه أيضا اتفاقا، ولذا مشى عليه في الإمداد؛ لأن الحرج مدفوع بالنص، هو ظاهر إطلاق المتون ."
(کتاب الطھارۃ، باب التیمم، ج:1۔ ص: 232۔233۔234، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100279
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن