
میں 2سال سے شدید بیمار ہوں، ایک سال سے زیادہ بیڈ پر لیٹا رہا ہوں،پیشاب اور پاخانہ بھی بیڈ پر ہوتا رہا ہے،اب 6 مہینے سے دن کے اوقات میں لکڑی کے اسٹینڈ کے سہارے تھوڑا تھوڑا چلتا ہوں،پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کر رہا ہوں، دن کےاوقات میں بیت الخلاء جا کر رفع حاجت کر لیتا ہوں اور رات کے وقت میں بستر پر ہی بوتل میں پیشاب کر لیتا ہوں اور استنجا کے بغیر ہی سو جاتا ہوں بار بار کپڑے بھی نہیں بدل سکتا،استنجا وضو کے بعد نماز پڑھتا ہوں، کیا یہ عمل ٹھیک ہے؟
بصورت مسئولہ آپ کے لیے رات کے وقت اگر بیت الخلاء جاکر پیشاب و استنجاء کرنا بسہولت ممکن ہو تو بستر پر رفع حاجت کرنا مناسب نہیں ہے، اور اگر بیماری یا کمزوری کے باعث بالفرض بستر پر ہی پیشاب کریں تو بغیر استنجاء سونے کے بجائے کم از کم ٹیشو پیپر سے استنجاء کر کے پیشاب کو اچھی طرح سُکھا لیا کریں،تاکہ گندگی سے جسم اور کپڑے خراب نہ ہوں۔
باقی نماز کی ادائیگی کے لیے نمازی کے جسم و کپڑے کا پاک صاف ہونا ضروری ہے، چنانچہ آپ استنجاء ووضوء کر کے نماز پڑھ رہے ہیں اور کپڑوں پر بھی کسی قسم کی نجاست مثلاً پیشاب کے قطرے نہ لگے ہوں تو نماز ادا ہوجائے گی، بصورتِ دیگر یعنی اگر کپڑوں پر ناپاکی موجود ہو تو اُسے پاک صاف کیے بغیر نماز ادا کرنا درست نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"يجوز الإستنجاء بنحو حجر منق كالمدر والتراب والعود والخرقة والجلد وما أشبهها ولا فرق بين أن يكون الخارج معتادا أو غير معتاد في الصحيح حتى لو خرج من السبيلين دم أو قيح يطهر بالحجارة ونحوها...ثم اتفق المتأخرون على سقوط اعتبار ما بقي من النجاسة بعد الإستنجاء بالحجر في حق العرق حتى إذا أصابه العرق من المقعدة لا يتنجس."
(كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثالث في الإستنجاء، ج:1، ص:48، ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
"تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب."
(كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الأول في الطهارة وستر العورة، ج:1، ص:58، ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100861
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن